آج خیبرپختونخواہ کی پولیس سراپا احتجاج ہے، لکی مروت کی پولیس راستے بند کر کے بیٹھی ہوئی ہے

0
93
pakalerts.pk

خیبرپختونخواہ میں پولیس کے احتجاج نے نئی کروٹ لی ہے اور سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے ریاست کی سمت پر سوال اٹھا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ کی پولیس آج سراپا احتجاج ہے، اور لکی مروت کی پولیس نے راستے بند کر کے سکیورٹی ایجنسیز کے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ تین ماہ میں امن قائم کر سکتے ہیں۔ کھوکھر نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ "ریاست کس جانب نکل پڑی ہے؟”

واضح رہے کہ خیبرپختونخواہ پولیس کو اختیارات نہ ملنے پر لکی مروت، بنوں، اور باجوڑ میں اہلکاروں کا احتجاج جاری ہے، جس میں ہائی وے بند کر دی گئی ہیں۔ انڈیپنڈنٹ اُردو کی رپورٹ کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر دھرنا دیا ہے اور انڈس ہائی وے کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جبکہ کچھ اہلکار سول کپڑوں میں بھی شامل ہیں اور اپنی ڈیوٹیوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر لکی مروت فہد وزیر نے پولیس قیادت کے ساتھ مل کر مظاہرین سے مذاکرات کیے اور سڑک کھولنے کی درخواست کی، مگر مظاہرین نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ مقامی صحافی زبیر مروت زنگی خیل نے بتایا کہ مظاہرین نے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، اور تاجہ زئی، منجیوالہ، اور درہ پیزو کے علاقوں میں بھی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے لکی مروت کا ملک بھر سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

انڈس ہائی وے خیبرپختونخواہ کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے جو صوبے کو پنجاب اور سندھ سے ملاتی ہے، اور اس وقت دھرنے کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں کئی کلومیٹر تک پھنس چکی ہیں۔ دھرنا کمیٹی کے رکن اور پولیس سب انسپکٹر انیس خان نے کہا کہ ان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ پولیس کو بااختیار بنایا جائے، کیونکہ ان کی زندگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز سے اختیارات لے کر پولیس کے حوالے کیے جائیں، اور وہ تین ماہ میں حالات کو کنٹرول کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔