پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے لاہور کے کاہنہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد عدلیہ کی حفاظت کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی صورت بھی عدلیہ پر قدغن قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اداروں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں جلسے کے لیے این او سی نہیں دیا جاتا، مگر امریکہ کا ویزہ ملنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
گوہر علی خان نے مزید کہا کہ عوام کو عوام سے لڑانے کی بجائے عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ اس موقع پر سردار لطیف کھوسہ نے بھی اپنی بات رکھی، جس میں انہوں نے فارم 47 کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ حکومت ملک پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے آئینی ترمیم کے ذریعے ایک آئینی عدالت کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ اب ثابت قدمی کا وقت آگیا ہے، ہمیں جبر کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔
پنجاب کے صدر حماد اظہر نے بھی اپنی تقریر میں فسطائیت، کنٹینرز، اور گرفتاریوں کا ذکر کیا اور کہا کہ عوام نے ان سب کو پاش پاش کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ کی حکومت جا رہی ہے اور عوام کی طاقت کے ساتھ عمران خان واپس آئیں گے۔
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ شکر ہے کہ عمران خان ایک امن پسند آدمی ہیں، ورنہ ان کی عوام کی طاقت ایک اشارے پر حکومت کو اڑا سکتی ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت اور پردے کے پیچھے کی قوتوں کو خبردار کیا کہ یہ ملک عوام کا ہے، نہ کہ کسی خاص فرد یا جماعت کا۔
یہ جلسہ پی ٹی آئی کی مضبوطی اور عوامی حمایت کے عزم کا اظہار کرتا ہے، جبکہ پارٹی کے رہنماؤں نے آئندہ کے انتخابات میں کامیابی کے لیے اپنی تیاریاں جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔




























