پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سموگ کے بڑھتے اثرات کے باعث تمام سرکاری و نجی اسکولوں کو 17 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے کا یہ اقدام بچوں کو مہلک اثرات سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور تعلیمی نقصان کے باوجود بچوں کی صحت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ آن لائن کلاسز میں درپیش مشکلات کو دیکھتے ہوئے متبادل حکمتِ عملی بھی جلد متعارف کروائی جائے گی۔
صوبے میں سموگ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی شرح ڈی ایچ اے میں 1236 اور سید مراتب علی روڈ پر 1256 ریکارڈ کی گئی ہے۔ سموگ کے باعث لوگوں کو سانس لینے میں دشواری، خشک کھانسی، اور بچوں میں نمونیا و چیسٹ انفیکشن جیسی بیماریاں عام ہو گئی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ 14 نومبر سے مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک میں داخل ہوگا، جس سے مصنوعی بارش کی کوشش کی جائے گی تاکہ سموگ کے اثرات میں کمی لائی جا سکے۔ وزیر تعلیم نے عوام سے اپیل کی کہ اپنی گاڑیوں کی فٹنس پر توجہ دیں تاکہ آلودگی میں کمی ہو اور بچے محفوظ رہ سکیں۔




























