تقرری کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل، چیئرمین نادرا کو عہدے پر بحال کردیا گیا

0
86

تفصیلات کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین نادرا، لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر، کی تقرری کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے انہیں عہدے پر بحال کردیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین نادرا کی تقرری کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے سنگل بینچ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے منیر افسر کی بحالی کا حکم دیا۔

نگراں حکومت نے لیفٹننٹ جنرل منیر افسر کو نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا سربراہ مقرر کیا تھا اور وہ موجودہ حکومت کے تحت بھی اس عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے نادرا رولز 2020ء میں رول 7 اے شامل کیا، جس کے تحت کسی بھی حاضر سروس افسر کو قومی مفاد میں چیئرمین نادرا تعینات کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ افسر گریڈ 21 یا اس سے اوپر کا ہو۔

شہری اشبا کامران نے حاضر سروس فوجی افسر کی تقرری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نگراں حکومت نے نادرا قانون میں ترامیم کرکے حاضر سروس آرمی افسر کو چیئرمین نادرا مقرر کرنے کی منظوری دی، جبکہ نگراں حکومت مستقل پالیسی امور میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ نادرا ترمیمی رولز کو کالعدم قرار دیا جائے اور فوجی افسر کی تقرری کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

سماعت کے دوران، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عاصم حفیظ نے جمعے کو چیئرمین نادرا کی تقرری کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی تعیناتی کالعدم قرار دی۔ عدالت نے درخواست گزار کی اپیل منظور کرتے ہوئے فوجی افسر کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ تاہم، لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے چیئرمین نادرا کی بحالی کی تصدیق کردی ہے۔