تیسرے نمبر سے اٹھا کر چیف جسٹس بنانے کا مقصد یہی ہے کہ عدلیہ آپس میں لڑے اور چل نہ سکے

0
87

سینئر قانون دان اور تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے لاہور ہائی کورٹ بار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی سے اپیل کی ہے کہ وہ چیف جسٹس کا عہدہ قبول نہ کریں۔ حامد خان کا کہنا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو تیسرے نمبر سے اٹھا کر چیف جسٹس بنانے کا مقصد عدلیہ میں اختلافات پیدا کرنا اور اسے کمزور کرنا ہے تاکہ عدلیہ حکومتی احکامات کی پابند ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یحییٰ آفریدی اپنی باری پر چیف جسٹس بنتے ہیں تو یہ عدلیہ کے وقار اور انصاف کے نظام کے حق میں ہوگا۔

حامد خان نے مزید کہا کہ اگر جسٹس یحییٰ آفریدی اس عہدے کو قبول کرتے ہیں تو وکلاء برادری انہیں بطور چیف جسٹس تسلیم نہیں کرے گی اور ان کے اس فیصلے کو ہمیشہ منفی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے سے عدلیہ درہم برہم ہو جائے گی اور انصاف کے نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

حامد خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں پاکستان کی تاریخ کا بدترین چیف جسٹس قرار دیا، جو ان کے بقول عدلیہ اور آئین کو نقصان پہنچا کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے 25 اکتوبر کو یوم نجات منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ وکلاء برادری ان ترامیم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔