وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوابی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عمران خان کو رہا نہیں کیا جاتا، پی ٹی آئی کارکنان اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے اور جیل جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خان کے خلاف کیے جانے والے ظلم کا حساب لیا جائے گا، اور نومبر میں عمران خان کی کال پر عوام باہر نکلیں گے۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے جلسے میں عوام تک عمران خان کا پیغام پہنچایا، جس میں کہا گیا کہ آج پاکستان میں انصاف اور جمہوریت کی بحالی کے لیے میدان میں نکلنا ضروری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو حکومتی کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں ایسے ججز کو تعینات کیا جا رہا ہے جن کے دل مردہ ہیں اور سر جھکے ہوئے ہیں۔
سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بھی جلسے میں کہا کہ عمران خان نے عوام کو پیغام دیا ہے کہ ان کا احتجاج کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ آئین کے تحفظ اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت قیادت اور کارکنان میں فاصلے پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر خان نے عوام کو یقین دلایا کہ بانی پی ٹی آئی جلد رہا ہو جائیں گے، اور ان کا نظریہ عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے پی ٹی آئی 26ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی، اور انہیں امید ہے کہ عدالت اس ترمیم کو ختم کرے گی۔
اسد قیصر نے بھی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی عوام کو آزادی سے جینا ہے تو انہیں فاشسٹ حکومت کے خلاف باہر نکلنا ہوگا۔




























