جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ملک میں فوری اور صاف شفاف انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم پر جے یو آئی (ف) کا واضح مؤقف ہے، اور انہوں نے قوم کو مشکلات سے بچایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں آرڈیننس کی اہمیت وقتی ہوتی ہے اور اسے مستقل حل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا حیدری کے مطابق حکومت کی کارکردگی خود حکومتی عہدیداروں کے بیانات سے عیاں ہے، اور وہ مزید نہیں چل سکتی، اس لیے فوری انتخابات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور فوری طور پر حل کیے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے مسائل پر زور دیا کہ وہاں کے وسائل پر وفاقی حکومت نے قبضہ کر رکھا ہے، اور طاقت کے استعمال سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے یقین ظاہر کیا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن آئینی ترامیم کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کی حمایت حکومت کے لیے بہت اہم ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اتحادی حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔




























