حکومت کے کھلاڑی ’’ اوپر‘‘ والوں کے احکامات کی تعمیل کیلئے ہرحربہ استعمال کررہے ہیں

0
99
Pakalerts.pk

نائب امیر جماعت اسلامی، لیاقت بلوچ نے منصورہ میں سیاسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم کو متنازع بنانے کے پیچھے مخصوص حلقوں کا مک مکا ہو چکا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکومت، جو خود اقلیتی مینڈیٹ کی بنیاد پر اقتدار میں آئی، بلیک میل ہوکر آئین کو متنازع بنا رہی ہے، جو قومی رسوائی کا باعث ہے۔

لیاقت بلوچ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی اصلاحات کی آڑ میں مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے، جو سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو بروقت خبردار کیا تھا کہ اگر آئینی ترامیم بدنیتی پر مبنی ہیں تو انہیں مذاکرات کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کو آئینی ترامیم میں شامل کرکے اپنا مقصد پورا کرنا چاہتی ہے، لیکن اگر تحریک انصاف اس جعلی حکومت کا ساتھ دیتی ہے تو وہ خود اپنے فیصلے کی ذمہ دار ہوگی۔

لیاقت بلوچ نے ایس سی او کانفرنس کی کامیابی کو پاکستان کے لیے خیر کا باعث قرار دیا، لیکن ساتھ ہی تنبیہ کی کہ اصل چیلنج معاہدوں اور ایم او یوز پر عملدرآمد کرنا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیرخارجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ یکطرفہ دوستی کے ہاتھ بڑھا کر کشمیر اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ اگر افغانستان کو بھی کانفرنس میں شامل کیا جاتا تو یہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مفید ثابت ہوتا۔