سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی دوتہائی اکثریت سے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیدی

0
88

قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے مطابق چیف جسٹس کی تقرری کی مدت تین سال ہو گی اور سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کے لیے ایک نئی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی۔ یہ کمیٹی 12 اراکین پر مشتمل ہو گی اور 3 سینئر ترین ججز میں سے کسی ایک کا نام وزیر اعظم کو پیش کرے گی، جو صدر کو چیف جسٹس کی تقرری کے لیے بھجوائیں گے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان بھی تشکیل دیا جائے گا، جس میں قومی اسمبلی اور سینٹ سے بھی نمائندے شامل ہوں گے۔

آئین کے مطابق چیف جسٹس کی تقرری کی میعاد 3 سال ہو گی اور ان کی عمر کی حد 65 سال مقرر کی گئی ہے۔ اگر چیف جسٹس اس عمر سے قبل اپنے تین سالہ دورانیہ مکمل کر لیتا ہے، تو وہ ریٹائر ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ میں آئینی بینچ بھی تشکیل دیے جائیں گے، جو سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ہوں گے اور ان میں ہر صوبے سے مساوی نمائندگی ہو گی۔

آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس لینے کا اختیار آئینی بینچز کو دیا جائے گا۔ ایک اور اہم ترمیم میں، وزیر اعظم یا کابینہ کی جانب سے صدر کو بھیجی گئی ایڈوائز پر کوئی عدالت یا اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکے گی۔

ایک اور بڑی تبدیلی یہ ہے کہ یکم جنوری 2028 تک ملک سے سود کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے آئین کے آرٹیکل 38 میں تبدیلی کی گئی ہے، تاکہ ملک میں اسلامی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔