خیبرپختونخواہ حکومت نے غریب اور کمزور طبقے کی مدد کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لائف انشورنس سکیم کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ مشیراطلاعات بیرسٹر سیف کے مطابق، یونیورسل ہیلتھ کوریج کے بعد یہ نیا اقدام عوام کو مالی تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اس سکیم کے تحت 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی موت کی صورت میں خاندان کو 5 لاکھ روپے جبکہ 60 سال سے کم عمر افراد کے ورثا کو 10 لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
بیرسٹر سیف نے بتایا کہ صوبے کی 49 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور کسی خاندان کے فرد کی موت سے مالی بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ حکومت نے اس سکیم کے ذریعے ایسے متاثرہ خاندانوں کو معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید برآں، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے میں ایجوکیشن ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے "تعلیم کارڈ” کا اجرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے 5 لاکھ سے زائد طلبہ کو ماہانہ تعلیمی وظائف دیے جائیں گے۔ سرکاری سکولوں کے طلبہ کو 1000 روپے ماہانہ اور بچیوں کو 500 روپے ماہانہ وظائف فراہم کیے جائیں گے۔ اس کارڈ کے تحت ذہین طلبہ کو ایٹا سکالرشپس بھی دی جائیں گی، جبکہ 9 اضلاع کے 40 ہزار بچے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے، جن میں کوہستان، تورغر، چترال، ٹانک اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔
یہ اقدامات خیبرپختونخواہ میں فلاحی ریاست کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔




























