وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشنز کی ضرورت نہیں اور حکومت ہمیشہ سے فوجی آپریشنز کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں تاکہ معصوم شہریوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ سرفراز بگٹی نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو ورغلانے کے بجائے تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر معصوم لوگوں کو مروانے اور ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔
سرفراز بگٹی نے پنجگور میں ہونے والے افسوسناک واقعے کا بھی ذکر کیا، جہاں مسلح افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا اور وہ پنجگور میں مزدوری کرتے تھے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ایسے واقعات بلوچستان کے عوام کی خدمت کے نام پر نہیں بلکہ ان کے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں غلط راستے پر جانے سے روکیں۔ بلوچستان کے حقوق آئین میں واضح ہیں اور حکومت ان حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔




























