پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کی کوششیں دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، اور پی ٹی آئی ایسا نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کرنے اور اس سے مستفید ہونے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ سب کی ملازمت کی مدت بڑھا دی جائے، تاکہ پارلیمان کے ذریعے ترمیم کر کے مزید تین سال کی ملازمت حاصل کی جا سکے؟
سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی بحالی کی جائے کیونکہ موجودہ حالات میں آئین و قانون کی حکمرانی ناپید ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہمیں خوفزدہ کرنا چاہتی ہے، لیکن پی ٹی آئی اب خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے۔
انہوں نے 9 مئی اور 8 فروری کو انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو بھی استعمال کیا گیا اور چیف جسٹس پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ جبر کے فروغ میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہمارے انتخابی نشان اور پٹیشنز کے ساتھ کیا ہوا؟ ان سب کے باوجود پی ٹی آئی ختم نہیں ہو رہی بلکہ اس کا وجود بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے جلسے کی منسوخی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عمران خان کی لاہور جلسے پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے کیا گیا۔ پی ٹی آئی اس وقت احتجاجی عمل میں ہے اور ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑنے نہیں دے گی۔
سلمان اکرم راجا نے زور دیا کہ آئینی ترمیم کا موجودہ طریقہ کار درست نہیں ہے، اور انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ضمیر کو جھنجوڑیں اور سوال کریں کہ کسی کی بیٹی کیوں اغواء ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم گھر میں بیٹھ کر نہیں رہیں گے بلکہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔




























