موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے بروقت اقدامات نہ کیے تو بہت نقصان ہوگا، وزیراعظم

0
126
Pakalerts.pk

وزیراعظم شہباز شریف نے باکو میں کوپ 29 کانفرنس کے موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو 2022ء میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس سے ملک کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ اس سیلاب نے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں، سکولوں، گھروں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔ سیلاب کی وجہ سے بچوں کی تعلیم، زرعی پیداوار اور بنیادی انفراسٹرکچر متاثر ہوئے۔ وزیراعظم نے دنیا کو موسمیاتی نقصانات کے تدارک کے لیے فوری اقدامات کرنے کی تاکید کی اور کوپ 28 میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان نیشنل کاربن مارکیٹ فریم ورک پر کام کر رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی موسمیاتی مالیاتی فریم ورک کی تشکیل نو کی ضرورت ہے تاکہ کمزور ممالک کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی مدد کرنی ہوگی تاکہ ایسے تباہ کن واقعات کو روکا جا سکے۔