میری شوریٰ نے کہا حکومت کے ساتھ نہیں جانا، آئینی ترمیم مسترد کرو

0
88
pakalerts.pk

مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی جماعت کی شوریٰ نے انہیں حکومت کے ساتھ جانے سے منع کیا ہے اور آئینی ترمیم کو مسترد کرنے کا کہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے یہ بات تحریک انصاف کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں پی ٹی آئی کے وفد میں سلمان اکرم راجا، حامد رضا اور اخوانزادہ حسین شامل تھے۔ اس ملاقات میں آئینی ترمیم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جب تک آئینی ترمیم کا مسودہ اور تجاویز ان کے ہاتھ میں نہیں آتیں، تب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان میں ووٹ کے ذریعے کسی بھی غیر آئینی اقدام کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ ملاقات کے بعد جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ابھی تک آئینی ترمیم کا ڈرافٹ تیار نہیں ہوا ہے، اور ان کی جماعت اپوزیشن کا حصہ رہے گی، تاہم اگر کوئی بہتر قانون سازی ہوئی تو وہ حکومت کے ساتھ بھی چل سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان آئینی ترمیم کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور ان سے خوش آئند بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے، اور دیگر جماعتیں بھی اس تحریک میں ان کے ساتھ ہوں گی۔

مزید برآں، پی ٹی آئی نے شیخ وقاص اکرم کو سیکرٹری اطلاعات اور راؤف حسن کو پالیسی تھنک ٹینک کا سربراہ مقرر کیا ہے، اور بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر دونوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے گئے ہیں۔