نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ

0
111
Pakalerts.pk

سپریم کورٹ کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے نیب ترامیم کیس میں 22 صفحات پر مشتمل ایک اضافی نوٹ جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے وجوہات کی توثیق نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ اگرچہ وہ نتیجے سے متفق ہیں، لیکن اکثریتی فیصلے میں اصل مدعا پر خاطر خواہ جواز فراہم نہیں کیا گیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اکثریتی فیصلے میں سابق ججوں کے بارے میں غیر مناسب ریمارکس دیئے گئے، جو عدالتی وقار کے منافی ہیں۔ ان کی رائے میں عدالتی اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہیے اور تنقید کا محور قانونی اصول ہونا چاہیے، نہ کہ فیصلے لکھنے والے ججوں کی تضحیک۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت انٹرا کورٹ اپیل کے حوالے سے کہا کہ یہ اپیل سپریم کورٹ میں اپنے ہی فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے ہوتی ہے اور اسے روایتی اپیلوں سے مختلف قرار دیا۔ ان کے مطابق انٹرا کورٹ اپیل سننے والے بنچ کو مقدمے کے حقائق کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم بحال کر دی تھیں، جس کا فیصلہ 6 ستمبر کو سنایا گیا تھا۔