ٹیکسٹائل سیکٹر کی 50 فیصد صنعتیں بند، لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے

0
156
PakAlerts

ٹیکسٹائل سیکٹر میں شدید بحران کی صورتحال سامنے آ رہی ہے جہاں پاور ٹیرف میں غیرمعمولی اضافے کی وجہ سے 50 فیصد صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ رواں سال ایکسپورٹ ٹارگٹ مکمل نہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ خلیل قیصر نے انکشاف کیا کہ پاور ٹیرف میں غیرمعمولی اضافے کی وجہ سے ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی 50 فیصد صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔ موجودہ حکومت اس سیکٹر کو بچانے میں ناکام رہی ہے۔ ملک بھر کی 580 اسپننگ ملوں میں سے 29 فیصد ملیں بند ہیں جبکہ 440 نٹنگ ملوں میں 20 فیصد بند ہو چکی ہیں۔ 8 لاکھ 80 ہزار واٹر جیٹ مشینوں میں سے 32 فیصد مشینیں بھی بند ہو چکی ہیں۔

اس بحران کے نتیجے میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی بتدریج بندش سے رواں سال ایکسپورٹ ٹارگٹ مکمل نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ فیصل آباد میں ڈھائی لاکھ پاور لومز میں سے 50 فیصد بند ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے 1 لاکھ 25 ہزار مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔

پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے ذرائع نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بڑی بڑی فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اپٹما کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 170 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 100 کے قریب لارج اسکیل فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ ان بند ہونے والی فیکٹریوں میں 50 ٹیکسٹائل ملیں بھی شامل ہیں۔

مل مالکان کے مطابق، 2022 میں بجلی 16 روپے فی یونٹ تھی جو اب 42 روپے فی یونٹ ہو چکی ہے۔ اسی طرح، 2022 میں انڈسٹری کو گیس 14 روپے یونٹ مل رہی تھی جو اب 40 روپے یونٹ ہے۔ اپٹما کے مطابق، دو سال میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 19 ارب ڈالر سے کم ہو کر 16 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔