ملک میں جنرل ضیاء اور مشرف دور سے سخت مارشل لاء لگا ہوا ہے، عمران خان

0
92
pakalerts.pk

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت ایسا سخت مارشل لاء نافذ ہے جو جنرل ضیاء اور پرویز مشرف کے دور سے بھی زیادہ سخت ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب مکمل طور پر ایک پولیس سٹیٹ بن چکا ہے، اور اس موجودہ صورتحال میں جو ہو رہا ہے، وہ ماضی کے مارشل لاء سے زیادہ سخت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرف کے دور میں بھی جلسے ہوتے تھے لیکن آج جو حالات ہیں، وہ پہلے کبھی نہیں دیکھے۔

عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بھی سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ "لندن پلان” کا حصہ تھے اور قوم کے ساتھ دھوکہ کیا۔ انہوں نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر جانبدار ہے اور اس کی ٹیم میں قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول، قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے ذاتی مفادات پر مبنی ہیں اور وہ اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ 9 مئی اور 8 فروری کی درخواستوں کو قاضی فائز عیسیٰ نے نہیں سنا اور پی ٹی آئی کی چار نشستیں کم کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زبردست ججز کو ہٹا دیا گیا اور قاضی فائز عیسیٰ نے اعجاز الاحسن اور مظاہر نقوی کو باہر کیا۔ عمران خان نے اعلان کیا کہ اس صورتحال کے خلاف جمعرات کو احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے محسن نقوی پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ ایک یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے لیکن انہیں ملک کا اہم ترین عہدہ دے دیا گیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں عدلیہ پر شدید حملہ کیا جا رہا ہے، اور یہ حملہ نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ پر کیے گئے ڈنڈوں والے حملے سے بھی بڑا ہے۔