روس میں 8.8 شدت کا زلزلہ، امریکا سے نیوزی لینڈ تک سونامی الرٹ جاری

0
120
Pakalerts.pk
pakalerts.pk

جاپان میں 19 لاکھ افراد کو انخلا کا حکم، کیلیفورنیا میں عوام کو ساحلوں سے دور رہنے کی ہدایت، چین، فلپائن، انڈونیشیا، پیرو، نیوزی لینڈ اور میکسیکو میں بھی وارننگ جاری

روس کے مشرقی ساحل کامچٹکا کے قریب سمندر میں 8.8 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا جس کے بعد ٹوکیو سے لے کر ہوائی، اور کیلیفورنیا سے نیوزی لینڈ تک سونامی الرٹ جاری کر دی گئی ہے۔ زلزلے کا مرکز کامچٹکا سے 126 کلومیٹر فاصلے پر اور گہرائی 18 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق اس زلزلے کے بعد علاقے میں 3 سے 4 میٹر اونچی سونامی لہریں دیکھی گئیں۔ گورنر ولادیمیر سولوڈوف نے کہا ہے کہ یہ دہائیوں میں سب سے شدید زلزلہ تھا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق روسی اکیڈمی برائے سائنسز کے جیو فزیکل ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ مہینے بھر تک 7.5 شدت کے آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔ مشرقی روس میں رات 11 بج کر 25 منٹ پر آنے والے اس زلزلے سے کچھ لوگ معمولی زخمی ہوئے، جس کے بعد شمالی جزائر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ جاپان کے شمالی ساحل پر بھی 40 سینٹی میٹر بلند لہریں ریکارڈ ہوئیں، جبکہ ہوائی کے ساحل سے بھی سونامی کی لہریں ٹکرائیں، لیکن ان کی شدت توقع سے کم رہی۔ جاپان نے 19 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔

کیلیفورنیا میں عوام کو ساحلوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ چین، فلپائن، انڈونیشیا، پیرو، نیوزی لینڈ اور میکسیکو نے بھی سونامی وارننگ جاری کر دی ہے۔ جاپانی حکام نے مشرقی ساحل کے نزدیک رہنے والوں کو بلند مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں میں کئی سونامی لہریں دیکھی گئی ہیں۔ شمالی جاپان کے ہوکائیڈو سے لے کر جنوبی واکایاما تک ساحلی پٹی پر انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سونامی کی لہریں 3 میٹر تک بلند ہو سکتی ہیں۔ امریکی ماہرِ ارضیات ڈاکٹر لوسی جونز کے مطابق ہوائی میں بندرگاہوں اور ساحلی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ کیلیفورنیا میں بھی املاک کو خطرہ ہے، لیکن جانی نقصان کی توقع نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 میں جاپان میں سونامی کی بعض لہریں 42 فٹ تک بلند ہوئی تھیں، اور موجودہ سونامی بھی سطح سمندر کے اچانک بلند ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ شمالی کیلیفورنیا کے کریسنٹ سٹی میں 6 فٹ بلند لہریں آ سکتی ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پیرو اور ایکواڈور کے نزدیک جزائر گلاپاگوس پر بھی سونامی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ علاقہ زلزلے کے مرکز سے 13 ہزار کلومیٹر دور واقع ہے، لیکن خطرہ بدستور موجود ہے۔ چینی حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشرقی چین کے بعض حصے سونامی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

ہوائی یونیورسٹی کی پروفیسر ہیلن جینیسوزکی کے مطابق یہ زلزلہ دنیا کے ریکارڈ شدہ 10 شدید ترین زلزلوں میں شامل ہے۔ یو ایس جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ 8.8 شدت کا زلزلہ تاریخ کا چھٹا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ 2010 میں چلی اور 1906 میں ایکواڈور میں آنے والے زلزلے بھی اسی شدت کے تھے۔

زلزلے کے بعد امریکا، جاپان اور چین سمیت کئی ممالک میں سونامی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ جاپانی حکومت نے ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کو انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ ہوائی کے حکام نے اوواہو جزیرے کے باسیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی سونامی سینٹر کے مطابق ایکواڈور سے ٹکرانے والی سونامی لہریں 10 فٹ تک بلند ہو سکتی ہیں۔ جاپان میں پہلے ہی کچھ علاقوں میں 30 سے 40 سینٹی میٹر اونچی لہریں دیکھی جا چکی ہیں۔

ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق فوکوشیما ڈائیچی اور ڈائنی نیوکلیئر پلانٹس کے عملے کو احتیاطاً بلند مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے 2011 کے تباہ کن زلزلے اور سونامی نے فوکوشیما پلانٹ کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور تابکاری پھیلنے کا سبب بنا تھا۔ جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری یوشیماسا حیاشی نے بتایا ہے کہ تاحال کسی قسم کے جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

سورس اردو پوائنٹ