فوجی کارروائیوں سے امن ممکن نہیں، فیصلہ ساز ماضی کی غلطیوں سے سبق لیں: امیر جماعت اسلامی

0
143
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

قانون سازی کے ذریعے خیبر پختونخواہ کے باشندوں کو ان کے وسائل سے محروم نہ کیا جائے، حکومت آئین کی پاسداری کرے، حافظ نعیم کا مطالبہ

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ محض فوجی آپریشن سے پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں، ریاستی ادارے اور فیصلہ ساز قوتیں ماضی کی پالیسیوں کے نتائج سے سیکھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخواہ کے عوام کو ان کے قدرتی وسائل اور معدنیات سے دور رکھنے کی کوششیں بند کی جائیں، آئینی حق تسلیم کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کو پشاور میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت اپنی مرضی کی قانون سازی کے ذریعے قبائلی علاقوں کی معدنیات پر قبضہ نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی علاقے میں پیدا ہونے والے وسائل پر پہلا حق اسی علاقے کے عوام کا ہوتا ہے۔

حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ نائب امیر جماعت اسلامی پروفیسر محمد ابراہیم کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے ممکنہ دھرنوں، احتجاجی تحریک یا اسلام آباد مارچ کے سلسلے میں دیگر سیاسی جماعتوں، قبائلی رہنماؤں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اس تحریک میں صفِ اول کا کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ڈالروں کے بدلے جو پالیسی اپنائی، اس کے نتائج آج تک قوم بھگت رہی ہے۔ حکومت اگر 22ویں فوجی آپریشن پر غور کر رہی ہے تو اسے پہلے ان 21 آپریشنز کا تجزیہ کرنا ہوگا جن کا انجام قوم نے پہلے ہی دیکھ لیا ہے۔ سول اور عسکری قیادت کو چاہیے کہ وہ گزشتہ 20 سالوں کے تجربات سے سبق لے اور پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مختلف قومیتوں کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے، اور پشتون، پنجابی، سندھی، بلوچی آپس میں دشمن نہیں۔ اصل مسئلہ خودغرض حکمران ہیں، جو سینیٹ انتخابات میں تو ایک ہوجاتے ہیں، لیکن امن کے مطالبے پر خود کو بے اختیار ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک فریق کے پاس سارے فیصلوں کا اختیار نہیں، ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے تمام طبقات کو اعتماد میں لینا ہوگا۔

مزید گفتگو میں حافظ نعیم نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات سے ہی خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر بہتری کو خوش آئند قرار دیا، اور کہا کہ ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی گھروں سے جبری انخلا اور فوجی آپریشن کی مخالف ہے، کیونکہ ان کارروائیوں میں نہ صرف معصوم شہری بلکہ خواتین، بچے، بزرگ اور سیکیورٹی اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جو اسی ملک کے شہری ہیں۔

اگر آپ چاہیں تو اسی خبر کا رومن اردو یا سادہ خلاصہ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

سورس اردو پوائنٹ