عمران خان کی نو مئی کے مقدمات میں ضمانت منظور

0
105
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

کوئی ایسا کیس دکھائیں جس میں سپریم کورٹ نے سازش کیس میں ضمانت نہ دی ہوں، حالاں کہ سازش کیس میں ضمانت دینا تھوڑا مشکل ہوتا ہے؛ دوران سماعت چیف جسٹس کا سپیشل پراسیکیوٹر سے مکالمہ

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اگست 2025ء ) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نو مئی کے مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس سنا، سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں کے برخلاف دلائل کا آغاز کیا، انہوں نے کہا کہ ’میں کل بیماری کے باعث پیش نہیں ہو سکا‘، جس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ’کوئی بات نہیں‘۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی سے استفسار کیا کہ ’پہلا سوال یہ ہے کہ کیا لاہور ہائیکورٹ ضمانت کے کیس میں حتمی فائنڈنگ دے سکتی تھی؟ آپ نے فیصلہ پڑھا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی ضمانت خارج کرتے ہوئے میرٹس پر حتمی قسم کی رائے دی، کیا ایسی حتمی رائے سے ٹرائل میں ایک فریق کا کیس متاثر نہیں ہوتا؟ سپریم کورٹ نے سازش کے الزام پر ملزمان کو ضمانت دی ہے، عمران خان پر بھی 9 مئی کی سازش کا الزام ہے تو ضمانت کیلئے تسلسل کا اصول اپلائی نہیں ہو گا؟۔

اس موقع پر عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں سپریم کورٹ میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا، بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’مجھے اجازت دی جائے کہ کیس کے میرٹس پر عدالت کی معاونت کروں‘، اس پر چیف جسٹس نے قرار دیا کہ ’ہم کیس کے میرٹس پر کسی کو دلائل کی اجازت نہیں دیں گے، آپ صرف سازش کے متعلق قانونی سوالات کے جواب دیں، کوئی ایسا کیس دکھائیں جہاں سازش کے الزام پر سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کی ہو، سپریم کورٹ نے ایسے ہی الزام کے تین مقدمات میں ضمانتیں منظور کی ہیں، اِس کیس کو دیگر مقدمات سے الگ ثابت کریں‘۔
سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے مؤقف اپنایا کہ ’عمران خان کا کیس اعجاز چوہدری سمیت سازش کے الزام پر ضمانت پانے والوں سے الگ ہے، اِس کیس میں ضمانت نہیں بنتی‘، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ ’عمران خان کےخلاف کیا شواہد ہیں‘، پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے جواب دیا کہ ’تین گواہان کے بیانات بطور ثبوت پیش کیے ہیں، بانی پی ٹی آئی کا تمام مقدمات میں مرکزی کردار ہے، سازش کے الزام میں جن ملزمان کو ضمانت ملی اُن کے خلاف ثبوت نہیں تھے لیکن عمران خان کے خلاف زبانی اور الیکٹرانک ثبوت موجود ہیں‘، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ ’میرٹ پر جائیں گے تو سلمان صفدر بھی بات کریں گے اور اگر سپریم کورٹ نے میرٹ پر آبزرویشن دی تو ٹرائل متاثر ہوگا، میرا کام آپ کو متنبہ کرنا تھا باقی جیسے آپ بہتر سمجھیں‘۔

اس موقع پر جسٹس شفیع صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ ’اعجاز چوہدری پر الزامات موقع پر موجودگی اور سازش کے تھے‘، جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ’کیا اعجاز چوہدری نو مئی کو موقع پر موجود تھے؟‘، اس پر پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے جواب دیا کہ ’اعجاز چوہدری کی موقع پر موجودگی کے حوالے سے واضح جواب نہیں دے سکتا‘، یہ سن کر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ’آپ پراسیکیوٹر ہیں اور آپ کو بنیادی بات کا ہی علم نہیں‘۔

سپیشل پراسیکیوٹر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے، پولی گرافک اور فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ نہیں کرانے دیئے گئے‘، اس پر جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ ’واقعے کے بعد گرفتاری تک عمران خان 2 ماہ تک ضمانت پر تھے، کیا یہ عرصہ پولیس کو تفتیش کیلئے کافی نہیں تھا؟‘، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’پولیس نے پولی گرافک سمیت 3 ٹیسٹ کیلئے مجسٹریٹ سے رجوع کیا، عدالت کی اجازت کے باوجود عمران خان نے ٹیسٹ نہیں کرائے‘، چیف جسٹس نے قرار دیا کہ ’اگر ایسا ہے تو قانونی نتائج ہوں گے، آپ دیگر ملزمان اور عمران خان کے مقدمے میں فرق بتائیں‘، ذوالفقار عباس نقوی نے دلیل دی کہ ’عمران خان کے خلاف تین گواہوں کے بیانات بطور ثبوت پیش کیے ہیں، ٹھوس شواہد ہیں‘، چیف جسٹس نے کہا کہ ’شواہد تو ٹرائل کورٹ میں ثابت ہوں گے‘۔

سورس اردو پوائنٹ