امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی سیلاب سے بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندانوں کی آواز بنے گی اور ان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو متبادل رہائش دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سیلاب بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان میں انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ ہے، اگر حکمران بروقت اقدامات کرتے تو تباہی کی یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
چوہنگ لاہور میں الخدمت خیمہ بستی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت کے معاملات کو عالمی سطح پر مؤثر طریقے سے نہیں اٹھایا، جس کے باعث عوام کو نقصانات اٹھانے پڑے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتی۔ انہوں نے کہا کہ مودی جب چاہے پانی روک دیتا ہے اور جب چاہے چھوڑ کر پاکستان کو ڈبوتا ہے، یہ کھلی آبی جارحیت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں سیلابی تباہ کاریوں کے ذمہ دار ہیں، یہ حکمران فوٹو سیشن تو کرتے ہیں لیکن عوام کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے این او سی جاری کرنے اور ان کی منسوخی نہ کرنے کی وجہ سے دریا کے راستوں میں تعمیرات ہوئیں جس کے نتیجے میں ہزاروں گھر تباہ ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ اپنی زندگی بھر کی کمائی سے گھر بناتے ہیں لیکن حکمرانوں کی نااہلی اور مافیاز کے لالچ نے سب کچھ پانی میں بہا دیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ درخت اور پہاڑ قدرتی طور پر سیلاب روکنے کی ڈھال ہیں لیکن جنگلات اور پہاڑوں کی بے دریغ کٹائی نے آفات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار متاثرین کو کھانا، رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کر رہے ہیں، خواتین رضاکار سیلاب زدہ خواتین کی تیمارداری کر رہی ہیں جبکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کا حصہ بن کر خدمت خلق کے کاموں میں شامل ہوں۔
منصورہ میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بڑے بلڈرز اور مافیاز سرکاری سرپرستی میں عوام کی زمینوں پر قبضے کر کے ہاؤسنگ کالونیاں بناتے ہیں اور لوگوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججز لاکھوں روپے مراعات لینے کے باوجود عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس بوسیدہ نظام کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے تاکہ عوام کو حقیقی عدل و انصاف مل سکے۔




























