فل کورٹ میٹنگ سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا خط منظر عام پر

0
111

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا دو صفحات پر مشتمل خط سامنے آ گیا ہے جس میں انہوں نے فل کورٹ میٹنگ کے ایجنڈے میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز پر اعتراضات

اے آر وائی نیوز کے مطابق جسٹس اعجاز اسحاق نے خط میں مؤقف اپنایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کا گزٹ نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے، جبکہ یہ رولز فل کورٹ میٹنگ سے محض ڈیڑھ روز قبل ججز کو رائے کے لیے بھیجے گئے۔ ان کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے رولز اپنانے سے قبل ججز کو تفصیلی پریزنٹیشن دی جانی چاہیے تھی، مگر موجودہ صورتحال میں فل کورٹ میٹنگ صرف رسمی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی حالت میں وہ رولز پر کوئی بامعنی رائے نہیں دے سکیں گے۔

انتظامی کمیٹی پر تحفظات

جسٹس اعجاز اسحاق نے خط میں یہ بھی نشاندہی کی کہ انتظامی کمیٹی میں سینئر ترین ججز کو شامل نہ کرنے کا معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فل کورٹ کی منظوری کے بغیر پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کا گزٹ نوٹیفکیشن کیسے جاری کیا گیا؟ ان کے مطابق اگر یہ اقدام بغیر فل کورٹ منظوری کے کیے گئے تو انہیں غیر قانونی سمجھا جائے گا۔

ججز کے بیرون ملک سفر پر پابندی

خط میں کہا گیا ہے کہ ججز کے بیرون ملک جانے کے لیے این او سی لازمی قرار دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس اعجاز اسحاق نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی قانون کے تحت چیف جسٹس کو اختیار نہیں کہ وہ ججز کو بیرون ملک جانے سے روکیں یا ان پر یہ شرط عائد کریں کہ وہ اپنی چھٹیاں صرف پاکستان میں گزاریں۔

بینچز کی تشکیل پر سوالات

جسٹس اعجاز اسحاق نے خط میں مزید کہا کہ "ماسٹر آف روسٹر” کے تحت کیسز کو دوسرے بینچز میں منتقل کرنے اور بینچز کی تشکیل سے متعلق مختلف عدالتی احکامات کو بھی فل کورٹ کے ایجنڈے میں شامل کیا جانا چاہیے۔