پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ وکٹ کیپر راشد لطیف نے پاک بھارت مقابلوں میں قومی ٹیم کی کمزوریوں کی نشاندہی کر دی۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں راشد لطیف نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی، دونوں ٹیموں کا آمنا سامنا صرف آئی سی سی اور اے سی سی ایونٹس میں ہوا ہے۔
انہوں نے اعدادوشمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 10 برسوں میں دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 15 میں سے 12 میچز میں بھارت فاتح رہا۔
راشد لطیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ کھلاڑی جذبات پر قابو نہیں رکھتے، صبر و حکمت عملی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور مکمل فوکس کے بغیر کھیلتے ہیں، جس کا نقصان ٹیم کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق قومی ٹیم ایک ہی وقت میں سب کچھ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب کھیل ہاتھ سے نکل جاتا ہے، دوسری جانب بھارت حالات اور پچ کی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور جیت لیتا ہے۔
سابق کپتان نے مزید کہا کہ گزشتہ 30 برس سے بھارت نے پاکستان پر دباؤ قائم کر رکھا ہے اور اسی دباؤ کا فائدہ بھارتی ٹیم نے بار بار اٹھایا ہے۔
راشد لطیف کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت نے حالیہ عرصے میں کم ٹی20 کرکٹ کھیلی ہے، لیکن پاکستان مشکل کنڈیشنز میں کھیلنے کا تازہ تجربہ رکھتا ہے جو اس کے حق میں جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 14 ستمبر کو دبئی میں مدمقابل ہوں گی۔




























