اڈیالہ میں بیٹھے شخص کو چاہیئے وزیراعظم کے ساتھ بیٹھیں اور میثاق استحکام پاکستان پر بات کریں

0
74
pakalerts.pk
pakalerts.pk

بانی پی ٹی آئی کو وزیراعظم کی اس آفر پر مثبت ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے، کیونکہ ہمیں عسکری محاذ کی نہیں بلکہ اندرونی سیاسی محاذ کی فکر کرنی چاہئے، مشیر رانا ثناء اللہ

وفاقی مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اڈیالہ میں بیٹھے شخص کو چاہیئے وزیراعظم کے ساتھ بیٹھیں اور میثاق استحکام پاکستان پر بات کریں، بانی پی ٹی آئی کو وزیراعظم کی اس آفر پر مثبت ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کا لہجہ ہی ہے جس نے ان کو اس مصیبت میں پکڑا ہو اہے، یہ لوگ اگر اپنے الفاظ درست کرلیں تو ان کی بہت ساری مشکلات حل ہوسکتی ہے، وزیراعلیٰ نے ہائیکورٹ میں بانی سے ملاقات کیلئے درخواست دی، لیکن ہائیکورٹ نے ان کے آرڈر ہی جاری نہیں کئے ، عدالت نے کہا کہ ہم نے آرڈر کئے ہوئے ہیں، بانی سے ملاقات کرنے کیلئے اپنا نام لسٹ میں داخل کرائیں، لیکن لسٹ صرف عمران خان کی فیملی اور وکلاء کیلئے ہے، اب وزیراعلیٰ کے پی کا نام اس لسٹ میں کیسے داخل ہوگا؟ ہائیکورٹ نے کسی آرڈر میں نہیں کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔جیل رولز کے مطابق قیدی کو دو طرح کے لوگ مل سکتے ہیں، ایک فیملی ممبران مل سکتے ہیں اور ایک وکلاء مل سکتے ہیں، میں خود عمران خان جب وزیراعظم تھے اور عثمان بزدار وزیراعلیٰ تھے تو میں چھ سات ماہ جیل میں رہا ہوں، اس دورا ن میں نے جیل میں اپنے وکیل اور فیملی ممبران کے علاوہ کسی کی شکل بھی نہیں دیکھی۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ رولز میں سپرنٹنڈنٹ کی صوابدید ہے کہ جس کی چاہے ملاقات کروا سکتا ہے۔عدالت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بانی سے ملاقات کرائی جائے، کے پی کابینہ اگر نہیں بنتی تو وہاں گورنرراج لگانے کی کوئی بات زیرغور نہیں ہے، سی ایم کو چاہیئے وہ منتخب وزیراعلیٰ ہیں اپنی کابینہ بنائیں۔مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جہاں تک عسکری محاذ اور بیرونی جارحیت کا خطرہ ہے، وہ سب نے دیکھ لیا کہ ہندوستان ہم سے 5 گنا بڑی قوت اور 10 گنا بڑی معیشت ہے، اس آپریشنل جنگ کے گھنٹے دس یا 12 تھے ، کشیدگی 10 دن تک رہی ، لیکن عسکری محاذ پر انڈیا کو مکمل سکون ہوگیا۔اب افغانستان کو بھی بالکل آرام آجائے گا، میدان جنگ میں فوج ہی نہیں لڑتی بلکہ سپہ سالار کی پالیسی اور حکمت عملی لڑتی ہے۔ جنگ یرموک جس کی فتح پر رومن ایمپائر مسلمانوں کے قدموں مں گری ، بیت المقدس اور شام کو فتح کیا گیا، دونوں ممالک کی افواج میں سے سپہ سالار خالد بن ولید کو نکال لیں تو شکست مسلمانوں کو بھی ہوسکتی تھی،یہ مہینے ڈیڑھ مہینے کی جنگ ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جنگی حکمت عملی دیکھیں تو خالد بن ولید جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں۔ وہ اس پائے کا جنرل ہے، ہمیں عسکری محاذ کی نہیں بلکہ اندرونی سیاسی محاذ کی فکر کرنی چاہئے، اڈیالہ میں بیٹھے شخص کو چاہیئے وزیراعظم کے ساتھ بیٹھیں اور میثاق استحکام پاکستان کریں، ان کو اس آفر پر مثبت ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے۔