پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کا خواب سپیکٹرم بحران کی زد میں

0
102

اسلام آباد: پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کو ایک سنگین سپیکٹرم بحران کا سامنا ہے، جو ملکی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی کم کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر جورڈنکا ٹومکووا نے ویلتھ پاک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپیکٹرم کی کمی کے باعث ملک میں ڈیجیٹل سروسز کا معیار شدید متاثر ہوا ہے، جس سے ٹیلی کام آپریٹرز کی صلاحیت کم ہو گئی ہے اور وہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔

سرمایہ کاری کی راہ میں حائل مشکلات

ڈاکٹر ٹومکووا نے پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ ناقص انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور سپیکٹرم کے مسائل کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیک انڈسٹری بے پناہ صلاحیت کی حامل ہے، لیکن سپیکٹرم کی دستیابی میں رکاوٹ کے باعث عالمی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کمپنیوں کے لیے مؤثر طریقے سے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کئی منصوبے تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے چیلنجز اور مواقع

پاکستان کی ٹیک انڈسٹری، حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر نمایاں ہونے والے سٹارٹ اپس کی بدولت، ترقی کی جانب گامزن ہے۔ تاہم، سپیکٹرم بحران اس ترقی کو روکنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر ٹومکووا کے مطابق، کئی کمپنیاں اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں، مگر اس کے باوجود طویل المدتی حل کی اشد ضرورت ہے۔

حکومتی اقدامات اور مستقبل کی راہ

ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو سپیکٹرم کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق، حکومت کو 5G سروسز کے لیے مزید سپیکٹرم مختص کرنا چاہیے تاکہ تیز رفتار ڈیٹا کی فراہمی ممکن ہو سکے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حمایت کی جا سکے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات

سرمایہ کاری کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سلہری کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات، جیسے کہ ریگولیٹری عمل کو آسان بنانا اور سرمایہ کاروں کے لیے مراعات فراہم کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اختتامیہ: ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور امیدیں

سپیکٹرم بحران کا حل پاکستان کے ڈیجیٹل خواب کی تعبیر کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ ملک کو اپنی ڈیجیٹل صلاحیت کا بھرپور استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے گا، جس سے اقتصادی ترقی اور خوشحالی کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں تیز کریں اور پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو روشن بنائیں۔