ایک کنٹرولڈ آئینی عدالت وقتی سیاسی مفادات کی تکمیل تو کر سکتی ہے، مگر یہ جمہوری ریاست کو مستقل نقصان پہنچائے گی

0
73
pakalerts.pk
pakalerts.pk

26ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے، اُس کی آئینی حیثیت کا تعین کیے بغیر نئی ترمیم کیسے ہوسکتی ہے؟ آئینی عدالت بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جسٹس منصور علی شاہ کا سوال

 جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک کنٹرولڈ آئینی عدالت وقتی سیاسی مفادات کی تکمیل تو کر سکتی ہے، مگر یہ جمہوری ریاست کو مستقل نقصان پہنچائے گی، 26ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے، اُس کی آئینی حیثیت کا تعین کیے بغیر نئی ترمیم کیسے ہوسکتی ہے؟ آئینی عدالت بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ جیسے بڑے ممالک میں بھی صرف ایک سپریم کورٹ ہے۔نئی عدالت بنانے کے بجائے پہلے سے موجود سپریم کورٹ کو مضبوط بنایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک اور خط لکھ دیاجس میں انہوں نے کہا کہ بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں مجوزہ آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اگر متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے دونوں متاثر ہوں گے، تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سر بلندی کے لیے کھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے۔خط میں چیف جسٹس پاکستان سیتمام آئینی عدالتوں کے جج صاحبان کا اجلاس بلانے کی سفارش کرتے ہوئے سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت سے باضابطہ مشاورت کی تجویز دی گئی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس واضح کریں آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی، آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں کہا کہ آپ اس ادارے کے ایڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے لیڈر شپ دکھانے کا تقاضا کرتا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا کہ عدلیہ کا ادارہ جاتی مؤقف تحریری طور پر حکومت اور پارلیمان کو بھجوایا جائے، جب تک مشاورت مکمل نہ ہو، حکومت کو ترمیم پیش نہ کرنے سے آگاہ کیا جائے، میری گزارش اختلاف نہیں، ادارہ جاتی یکجہتی کی اپیل ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ خط کسی فرد کے خلاف نہیں، آئین کی سر بلندی اور عدلیہ کی خود مختاری کے حق میں ہے، آئین پر خاموشی اختیار کرنا آئینی حلف کی روح کو مجروح کرے گا، آئندہ نسلوں کے لیے خود مختار اور با وقار عدلیہ کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔