چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات بہترین اور بات چیت حیرت انگیز رہی، آئندہ برس اپریل میں چین کا دورہ کروں گا اور صدر شی بھی امریکہ کا دورہ کریں گے؛ امریکی صدر کی صحافیوں سے گفتگو
امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف میں کمی اور تجارتی معاملات پر معاہدہ طے پا گیا۔ عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں امریکہ کے صدر کی چینی ہم منصب سے ملاقات ہوئی، جو 2019ء کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی براہِ راست ملاقات تھی، تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی یہ ملاقات ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) کانفرنس کے موقع پر ہوئی، ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے صدر شی کے ساتھ گرم جوشی سے مصافحہ کیا اور انہیں گاڑی تک چھوڑنے گئے۔اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایک متوازن معاہدہ کیا ہے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، معاہدے کے تحت امریکہ نے ٹیرف میں نرمی پر اتفاق کیا، چین نے سویابین کی خریداری بحال کرنے، نایاب معدنیات کی برآمدات برقرار رکھنے اور فینٹانل کی سمگلنگ روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ان اقدامات کے باعث چین کے ساتھ تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔
بعد ازاں اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات بہترین اور بات چیت حیرت انگیز رہی، اس دوران کئی اہم فیصلے کیے گئے، امریکہ اور چین کے درمیان ایک سالہ تجارتی معاہدہ طے پا یا ہے، تجارتی معاہدے کو باقاعدگی سے توسیع دی جائے گی، چین پر عائد ٹیرف 57 فیصد سے کم کرکے 47 فیصد کر رہے ہیں، نایاب معدنیات کا تنازع بھی حل کر لیا گیا ہے، اس کے علاوہ آئندہ برس اپریل میں چین کا دورہ کروں گا اور صدر شی بھی امریکہ کا دورہ کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے فینٹینیل کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزا کے امریکہ میں داخلے کی روک تھام کے جواب میں امریکہ تمام چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو کم کرے گا، چین کے ساتھ نایاب معدنیات کی تجارت کا معاملہ طے پا گیا ہے، اس معاملے میں چین کی جانب سے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہم نے یوکرین کے معاملے پر صدر شی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دونوں فریق لڑ رہے ہیں اور میرا خیال ہے کبھی کبھی آپ کو انہیں لڑنے دینا پڑتا ہے لیکن ہم یوکرین پر مل کر کام کرنے جا رہے ہیں، تاہم اس ملاقات کے دوران تائیوان کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا۔




























