الشفا اسپتال کے باہر صحافیوں کے خیمے پر جان بوجھ کر حملے کا اسرائیلی اعتراف
غزہ میں الجزیرہ کے ایک معروف صحافی، جنہیں ماضی میں اسرائیل کی جانب سے دھمکیاں دی گئی تھیں، اتوار کی رات ایک اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔
انس الشریف، جو غزہ میں الجزیرہ کا ایک پہچانا جانے والا چہرہ تھے، اس وقت مارے گئے جب وہ غزہ شہر میں الشفا اسپتال کے باہر صحافیوں کے لیے قائم ایک خیمے میں موجود تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ پیر کی صبح ادا کی گئی۔
قطر میں قائم نشریاتی ادارے کے مطابق اس حملے میں کل سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں انس الشریف، الجزیرہ کے رپورٹر محمد قریقه اور کیمرا آپریٹرز ابراہیم زاہر، محمد نوفل اور معمن علیوہ شامل ہیں۔
اسرائیلی ڈیفنس فورس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صحافی "حماس کے ایک دہشت گرد سیل کے سربراہ تھے اور اسرائیلی شہریوں اور آئی ڈی ایف فورسز پر راکٹ حملوں کو آگے بڑھانے کے ذمہ دار تھے”۔
اسرائیل نے کہا کہ اسے غزہ سے ملنے والی انٹیلی جنس اور دستاویزات سے اس کا ثبوت ملا ہے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ کی جنگ کی محاذی رپورٹنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور اسرائیل کا دعویٰ ثبوت سے خالی ہے۔
الجزیرہ نے انس الشریف کو "غزہ کے سب سے بہادر صحافیوں میں سے ایک” قرار دیتے ہوئے اس حملے کو "غزہ پر قبضے کی تیاری میں آوازوں کو خاموش کرنے کی ایک مایوس کن کوشش” کہا۔
گزشتہ ماہ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انس الشریف کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہیں حماس کے عسکری ونگ کا رکن قرار دیا تھا۔ اس وقت اقوام متحدہ کی آزادیٔ اظہارِ رائے کی خصوصی نمائندہ آئرین خان نے اس الزام کو "بے بنیاد” اور "صحافیوں پر کھلا حملہ” قرار دیا تھا۔
جولائی میں انس الشریف نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کو بتایا تھا کہ وہ "اس احساس کے ساتھ زندہ ہیں کہ کسی بھی وقت بمباری ہو سکتی ہے اور میں شہید ہو سکتا ہوں”۔
حملے کے بعد سی پی جے نے کہا کہ وہ "صحافیوں کی موت کی خبر سن کر سخت صدمے میں ہے”۔
سی پی جے کی علاقائی ڈائریکٹر سارہ قداح نے کہا:
"اسرائیل کا بغیر قابلِ اعتبار ثبوت فراہم کیے صحافیوں کو عسکریت پسند قرار دینا اس کے ارادے اور صحافتی آزادی کے احترام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ صحافی شہری ہیں اور انہیں کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان قتلوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔”
سورس اردو پوائنٹ




























