قلیتوں کے قومی دن کے حوالے سے وائی ایم سی اے گرائونڈ کے باہر اقلیت حقوق مارچ کا انعقادکیا گیا

0
135
Pakalerts.pk

مارچ میں مسیحی،ہندو،سکھ سمیت مختلف اقلیتوں سمیت سول سوسائٹی،خواجہ سرائوں،خواتین تنظیموں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی

کراچی پاکستان میں اقلیتوں کے قومی دن کے حوالے سے اتوار کو وائی ایم سی اے گرائونڈ کے باہر اقلیت حقوق مارچ کا انعقادکیا گیا۔مارچ میں مسیحی،ہندو،سکھ سمیت مختلف اقلیتوں سمیت سول سوسائٹی،خواجہ سرائوں،خواتین تنظیموں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔مارچ کی قیادت پاسٹر غزالہ شفیق۔نجمہ مہیشوری۔رام سنگھ۔بہویش(Bhevish) کمار۔جینٹ کمار۔لووک وکٹر ۔بندیا رانا اور دیگر نے کیا۔مارچ کے شرکا وائی ایم سی اے سے سندھ اسمبلی تک مارچ کیا۔مارچ میں مختلف طریقوں سے اقلیتوں کے حقوق کو اجاگر کیا گیا۔اقلیت حقوق مارچ کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹرک تیار کیا گیا تھا جس پر اقلیتوں کے مطالبات درج تھے ۔

مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے منتظمین نے کہا کہ 11 اگست کو حکومت پاکستان نے 2009 سے قومی اقلیتی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔یہ اقلیت حقوق مارچ اس دن کی مناسبت سے منعقد کیا گیا یے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو اس وقت سماجی مسائل کا سامنا ہے۔معاشرے کے مختلف طبقوں کا اقلیتوں کیساتھ رویہ مناسب نہیں یے۔اقلیتوں کو بنیادی سہولتوں کو کمی کا سامنا یے ۔سب سے بڑا مسئلہ اقلیتوں کے ساتھ جبرا مذہب تبدیلی کا یے۔منتظمین نے اپنے مطالبات پیش کیے ۔جس میں کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں تمام اقلیتیوں کے لیے مساوی اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔ہر تعلیمی ادارے میں اقلیتیوں کے لیے کم از کم 10 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے۔نصاب میں متنازعہ مواد کو ختم کیا جائے۔آئین میں اقلیتی کی مخصوص شناخت کے مطابق ترمیم کیا جائے۔اقلیتی عبادت گاہوں اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانا جائے۔جبر کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کو جرم قرار دیا جائے۔اقلیتیوں کے ذاتی قوانین میں مناسب ترمیم کی جائیں۔آئین کے آرٹیکلز 41 اور 91 میں ترمیم کر کے اقلیتیوں کو صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں کے لیے میرٹ کی بنیاد پر اہل بنایا جائے۔تمام اقلیتیوں کے لیے سیاسی نمائندگی کو یقینی بنانا جائے۔وفاقی صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں میں مخصوص نشستوں کو اقلیتیوں کے لیے مزید بڑھایا جائے۔اقلیتیوں کے حقوق معاشی طاقت روزگار اور معیاری زندگی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔مذہبی قوانین کا غلط استعمال روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔منتظمین نے کہا کہ منارثی رائیٹس مارچ ایک آزاد جماعت ہے جس میں مذہبی اقلیتی گروپوں کے مذہبی مینارٹی رائٹس مارچ و سماجی رہنماں اور سول سوسائٹی کے افراد شامل ہیں۔اس کا مقصد شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو یکجا کرنا ہی. تاکہ مذہبی اقلیتی گروپوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب پالیسیوں اور قانون سازی کے لیے جدوجہد کی جاسکے ۔ تاکہ ایک جامع اور کثیر الثقافتی معاشرہ قائم ہو.ہم سب کو بلا تفریق مذہب عقیدہ، جنس ،نسل، طبقہ یا پیشے کے ہمارے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ہم سب کے لیے مساوات اور انصاف کا مطالبہ کر سکیں۔ہم اپنے مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔شرکا نے اپنے مطالبات حکومت کے نوٹس میں لانے کے لییسندھ ہائی کورٹ اور سندھ اسمبلی کے باہر پیش کیے۔ان مطالبات کو فنون کے زریعہ پیش کیا گیا۔شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور ان کے مسائل حل کیے جائیں۔

سورس اردو پوائنٹ