نیویارک (08 دسمبر 2025): اقوام متحدہ نے افغانستان سے خواتین پر کام کرنے کی عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان خواتین کے عالمی ادارے کے دفاتر میں کام کرنے پر پابندی سے زندگی بچانے والی خدمات خطرے میں آ گئی ہیں۔
خواتین کے کام پر پابندی نے صحت، تعلیم اور انسانی امداد کے شعبوں میں کام کرنے والی تنظیموں کے اقدامات کو متاثر کیا ہے، خواتین کی شمولیت نہ صرف انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ امدادی کاموں اور معاشرتی خدمات کے تسلسل کے لیے بھی اہم ہے۔
دو ریاستی حل، پریس کانفرنس میں نیتن یاہو اور جرمن چانسلر کا ایک دوسرے کے خلاف مؤقف
یو این کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی سے انسانی ترقی اور امدادی کام متاثر ہو گیا ہے، بین الاقوامی برادری طالبان سے خواتین کے حقوق کی پاس داری کا کہے۔
واضح رہے کہ طالبان حکام نے اب تک اقوامِ متحدہ کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ ستمبر 2025 میں بھی اقوام متحدہ نے افغانستان میں طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مقامی خواتین عملے کے کام پر آنے پر عائد پابندیاں ختم کرے، اور خبردار کیا کہ زلزلہ متاثرین اور دیگر کمزور افغانوں کے لیے امداد خطرے میں ہے۔ طالبان حکام نے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈز اور فیلڈ دفاتر کے داخلی راستوں پر سیکورٹی فورسز تعینات کرکے افغان خواتین عملے کا داخلہ روک دیا تھا۔




























