سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیداد نیلامی کے خلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی اور ملک ریاض سمیت دیگر کے خلاف نیب ریفرنسز کی نقول عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق، سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز کی نیلامی کے خلاف اپیلوں پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس امین نے ریمارکس دیے کہ “یہ تو محض متفرق درخواست ہے، مرکزی اپیلیں ابھی تک فکس ہی نہیں ہوئیں۔” وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا، “مجھے رات گئے اطلاع دی گئی کہ کیس لگ گیا ہے، اصل اپیلیں شامل کیوں نہیں کی گئیں، یہ آفس سے معلوم کریں۔”
جسٹس امین نے تجویز دی کہ کیس کو اگلے ہفتے سن لیتے ہیں، جس پر وکیل نے حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے مختصر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع کی، تو جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ صرف متفرق درخواست زیر سماعت ہے، اور مرکزی اپیلیں ابھی تک شیڈول میں شامل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کرتے ہوئے 8 پراپرٹیز دی تھیں، اور اب مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ پلی بارگین دباؤ میں کی گئی تھی، جسے چیئرمین نیب کو ختم کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، پلی بارگین ختم ہونے کے بعد معاملہ ابتدائی مرحلے پر واپس آ گیا ہے، اس صورت میں نیب جائیدادوں کی نیلامی کیسے کر سکتا ہے؟ اب باقاعدہ ریفرنس پر ٹرائل ہوگا اور سزا کے بعد ہی اثاثے ضبط ہو سکتے ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست اور نیب ریفرنسز دونوں زیر التوا ہیں۔ جسٹس امین نے کہا کہ حکم امتناع کا فیصلہ یکطرفہ نہیں ہوگا، دوسری فریق کی رائے سننا بھی ضروری ہے۔
عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف نیب ریفرنسز کی مکمل نقول پیش کریں، اور ساتھ ہی بحریہ ٹاؤن کی نیلامی کے خلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی۔
اگر آپ کو اس کی انگریزی میں خلاصہ، سوشل میڈیا ورژن یا سرخیوں کی شکل میں نکات درکار ہوں تو بتائیں۔




























