پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء پہیہ جام کیلئے تیار نہیں تھے، علیمہ خان کہتی تھیں کہ عوام باہر نکلو! آگ لگا دو اور عمران خان کو رہا کرا دو، جبکہ وہ خود اپنے بچوں کے ساتھ گڈیاں اڑارہی تھیں، اختیار ولی خان
ن لیگ کے رہنماء اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے بانی کی صحت پر گندی سیاست کی لیکن سلمان صفدر نے کہہ دیا کہ ان کی صحت ٹھیک ہے، پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء پہیہ جام کیلئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خانم نے خود کہہ دیا کہ اپنے بچوں کے ساتھ گڈیاں اڑارہی تھی، علیمہ خانم کہتی تھی کہ نکلے! آگ لگا دو اور عمران خان کو رہا کرا دو۔
ان کے رہنماء کہتے ہیں کہ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس نے دریا میں دھکا دیا ہے، پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء نے کہا کہ ہم پہیہ جام کیلئے تیار نہیں تھے۔ بانی کی صحت پر پی ٹی آئی کی جانب سے گندی سیاست کی گئی، سلمان صفدر نے کہہ دیا کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے۔
وکیل پی ٹی آئی فیصل چوہدری نے کہا کہ سلمان صفدر نے عدالتی نمائندے کی حیثیت سے بانی سے ملاقات کی۔
سلمان صفدربانی سے ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کرائیں گے تو صورتحال واضح ہوگی، سلمان صفدر جیل میں بانی کی صحت اور جیل سہولتوں کا جائزہ لینے گئے تھے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیے جانے والے بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے مختصر کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق خان صاحب تک مکمل رسائی دی گئی، خان صاحب کی صحت ٹھیک ہے، رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کرانے تک مناسب نہیں کچھ کہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ دیکھ لیں تین گھنٹے کے بعد باہر آیا ہوں۔
اس سے قبل وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ سے استفسار کیا کہ کیا میری رپورٹ جمع کرانے کا سکوپ صرف لیونگ کنڈیشن تک ہی محدود ہے؟ آنکھ کے طبعی معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کچھ خدشات موجود ہیں۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لیونگ کنڈیشن کی رپورٹ چیمبر میں جمع کرائیں۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے استدعا کی کہ ’عدالتی حکم میں زکر کردیں ہم نے رپورٹ جمع کرا دی تھی‘، سماعت کے اختتام پر ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ بھی روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے عدالت سے ستدعا کہ کہ ’مجھے بھی ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم سپریم کورٹ نے لطیف کھوسہ کو ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کردی اور سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل جانے کا حکم دیا جب کہ کیس کی سماعت پرسوں تک ملتوی کردی گئی۔




























