جہاں ایک طرف امریکہ انسانی سطح کی ذہانت رکھنے والی AI تیار کرنے کی دوڑ میں اپنی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہا ہے، وہیں چین نے ایک بالکل مختلف ہدف طے کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے چینی اسٹیٹ کونسل نے ایک دس سالہ منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت 2035 تک AI کو معیشت کے ہر پہلو میں ضم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو "AI+” کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت معیشت کی ترقی کے لیے اتنی ہی اہم ہو جائے جتنی انٹرنیٹ نے اپنی آمد کے وقت معیشت کو بدل دیا تھا۔
چین میں AI کا عملی نفاذ
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، چین پہلے ہی اپنی معیشت اور انفراسٹرکچر کے کئی شعبوں میں AI نافذ کر چکا ہے، جن میں شامل ہیں:
- مینوفیکچرنگ
- موسمیات (Weather Forecasting)
- خودکار گاڑیاں، جن میں چینی ساختہ Tesla بھی شامل ہیں
یہ عملی اقدامات امریکہ کی حکمتِ عملی سے بالکل مختلف ہیں، جہاں زیادہ تر توجہ جنریٹیو AI ماڈلز (متن، تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے سسٹمز) پر مرکوز ہے۔
امریکہ اور چین کا موازنہ
- امریکہ نے 2024 میں چین کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ سرمایہ AI پر خرچ کیا۔
- اس کے باوجود، چین صرف چند ماہ پیچھے ہے AI کے بڑے بینچ مارکس میں۔
- امریکہ کی بڑی ٹیک کمپنیاں زیادہ تر صارفین کے لیے مواد بنانے والے AI پر فوکس کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر "algorithmic slop” یعنی غیر معیاری مشینی مواد کی بھرمار ہو گئی ہے۔
اس کے برعکس، چین اپنی سرمایہ کاری عملی منصوبوں پر کر رہا ہے، جیسے زراعت، شہری انتظامیہ اور صنعتی پیداوار۔
چین کا سرمایہ کاری فنڈ
2025 کے آغاز میں، بیجنگ حکومت نے 8.4 ارب ڈالر مالیت کا AI فنڈ قائم کیا ہے تاکہ:
- نئے اسٹارٹ اپس کی مالی معاونت ہو
- مقامی حکومتوں اور سرکاری بینکوں کے ساتھ مل کر عملی AI منصوبے شروع کیے جائیں
ماہرین کے مطابق، چین AI کو مستقبل کی چیز نہیں بلکہ آج کے مواقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ژیونگ آن — چین کا "شہرِ مستقبل”
AI کے عملی استعمال کی بہترین مثال ژیونگ آن (Xiong’an) ہے، جو بیجنگ کے قریبی صوبے ہیبی میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ شہر 2017 میں منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا اور اس میں:
- 5G ٹیکنالوجی
- مصنوعی ذہانت
- خودکار ڈرائیونگ
- قابلِ تجدید توانائی
سبھی بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
یہاں چینی کمپنی DeepSeek کے AI سسٹمز استعمال ہو رہے ہیں، جو زراعت کی منصوبہ بندی سے لے کر روبوٹک کافی بنانے والے بارسٹا اور شہری ہیلپ لائنز کے انتظام تک ہر شعبے میں فعال ہیں۔
نتیجہ
چین کی پالیسی صاف ہے: کم وسائل خرچ کر کے عملی AI اپنانا۔ اگرچہ امریکہ نے AI پر زیادہ سرمایہ لگایا ہے، لیکن چین نے اسے روزمرہ زندگی اور معیشت میں ضم کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔
یہ حکمتِ عملی نہ صرف معیشت کو نئی سمت دے رہی ہے بلکہ چین کو ایک AI پاور ہاؤس میں بدلنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔




























