ڈجیٹل فنڈز ٹرانسفر: اسٹیٹ بینک نے 2 گھنٹے کے کولنگ پیریڈ کی وضاحت کر دی

0
103
pakalerts.pk
pakalerts.pk

کراچی (22 ستمبر 2025) — اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈجیٹل فنڈز ٹرانسفر میں 2 گھنٹے کے کولنگ پیریڈ سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام رقوم ریئل ٹائم بنیادوں پر فوری طور پر وصول کنندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ کولنگ پیریڈ صرف منتقل شدہ رقوم کے استعمال یا ان کے اخراج پر لاگو ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، برانچ لیس بینکنگ والٹس یا اکاؤنٹس میں رقوم فوراً منتقل ہو جاتی ہیں، لیکن آن لائن خریداری، موبائل بیلنس ٹاپ اپس یا نقدی نکالنے کی سہولت صرف 2 گھنٹے بعد دستیاب ہوتی ہے۔

مرکزی بینک نے بتایا کہ یہ شرط اپریل 2023 میں متعارف کرائی گئی تھی تاکہ برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس کے نسبتاً آسان مستعدی تقاضوں کے باعث بڑھنے والے دھوکا دہی کے خدشات پر قابو پایا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 گھنٹے کے کولنگ پیریڈ سے صارفین کو موقع ملتا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک یا جعلی لین دین کی بروقت اطلاع دے سکیں۔ ادارے نے مزید بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال سے یہ ہدایات مؤثر طور پر کام کر رہی ہیں اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔