بدھ کی صبح کی پریس کانفرنس میں جیفری ایپسٹین کے متاثرین نے ٹرمپ انتظامیہ پر شفافیت کی کمی کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ ایپسٹین سے متعلق تمام دستاویزات کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ ایپسٹین ایک بدنام مجرم تھا جس نے خود کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا "سب سے قریبی دوست” کہا تھا۔
متاثرہ خاتون شونٹے ڈیوس نے اپنی گفتگو میں ایپسٹین اور ٹرمپ کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپسٹین کے طاقتور تعلقات نے انہیں انصاف کے حصول میں بے بس کر دیا۔
انہوں نے کہا:
"ایپسٹین نے خود کو دنیا اور امریکا کے طاقتور ترین رہنماؤں سے گھیر رکھا تھا۔ اس نے نہ صرف مجھے بلکہ بے شمار دوسروں کو بھی استحصال کا نشانہ بنایا، اور سب نے آنکھیں بند کر لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایپسٹین کے پاس مکمل آزادی تھی۔ وہ اپنے بااثر دوستوں پر فخر کرتا تھا، جن میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرفہرست تھے۔ یہ اس کا سب سے بڑا فخر تھا۔”
ڈیوس نے مزید بتایا کہ ایپسٹین اکثر اپنی ٹرمپ سے قربت کا ذکر کرتا اور اس پر ناز کرتا تھا:
"اس کا سب سے بڑا فخر ہمیشہ یہی رہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بہت قریبی دوست ہے۔ اس کی میز پر ان دونوں کی ایک 8×10 کی فریم شدہ تصویر بھی رکھی ہوتی تھی۔ وہ دونوں بہت زیادہ قریب تھے۔”
ادھر، جب متاثرین امریکی کانگریس پر ایپسٹین کی فائلز جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں — جو صرف دو مزید ری پبلکن ووٹوں سے ممکن ہو سکتا ہے — صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر اس معاملے کو "ڈیموکریٹس کا کبھی نہ ختم ہونے والا فراڈ” قرار دیا۔




























