ہمارے پاس تو ویسے بھی اب کھونے کو کچھ نہیں بچا، دوران سماعت سپریم کورٹ جج کے ریمارکس

0
70
pakalerts.pk
pakalerts.pk

27ویں آئینی ترمیم کے بعد جہاں ججز کے استعفوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں کچھ دلچسپ ریمارکس بھی سننے کو مل رہے ہیں

 حال ہی میں آئین کا حصہ بننے والی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد جہاں ججز کے استعفوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں کچھ دلچسپ ریمارکس بھی سننے کو مل رہے ہیں، اسی طرح کے ریمارکس دوران سماعت سپریم کورٹ جج کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے بھی دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ملک جمیل ظفر سے مکالمہ کیا اور اس دوران جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔بتایا گیا ہے کہ دوران سماعت ڈی آئی جی اسلام آباد ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کے وکیل شاہ خاور نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ ’فیصل آباد کی ایک ٹرائل کورٹ میں فوجداری مقدمہ زیر سماعت تھا، ٹرائل کورٹ نے گواہان کو پیش کرنے کا حکم دیا، میرے مؤکل اس وقت ایس پی تھے، ان کے خلاف ٹرائل کورٹ نے آرڈر میں آبزرویشنز دیں‘۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ ’صرف لوگوں کو جیل میں ڈالنا نہیں ہوتا، عدالتوں میں گواہان کو پیش بھی کرنا ہوتا ہے، ٹرائل کورٹ کے جج خود جا کر گواہان کو لا تو نہیں سکتے تھے‘، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ’شاہ خاور یہ جو آپ کے ساتھ پولیس والا کھڑا ہے کیا یہی ڈی آئی جی ہے؟‘، اس پر ایڈووکیٹ شاہ خاور نے جواب دیا کہ ’جی! یہی ہیں‘۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’یہ دیکھیں یہ یہاں کھڑا ہمیں ڈرا رہا ہے، ارے بھائی ہمارے پاس تو ویسے بھی اب کھونے کو کچھ نہیں بچا‘، جج کے ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے، بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے اس کیس کا معاملہ ہائیکورٹ بھجوا دیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فیصل آباد کی ٹرائل کورٹ نے پولیس افسر کے خلاف آبزرویشنز دیں، لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے چیمبر میں فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز برقرار رکھیں، ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، ہائی کورٹ کی اپیل بحال کی جاتی ہے کیوں کہ وکیل درخواست گزار نے کہا بغیر سنے فیصلہ دیا گیا، اس لیے ہائیکورٹ میرٹس پر کیس کا دو ماہ میں سن کر فیصلہ کرے۔