ہمیں افغان رجیم سے اچھائی کی کوئی اُمید نہیں‘ ان پر اعتبار کرنے سے بڑی حماقت نہیں ہوگی، وزیردفاع

0
33
pakalerts.pk
pakalerts.pk

طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہے، ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا اور ان پر اعتماد کرنا بے سود ہے، دہشت گردی کی فیکٹری ختم ہوگی تو حلال روزی کمانے کے مواقع پیدا ہوں گے؛ خواجہ آصف کی گفتگو

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہمیں افغان رجیم سے اچھائی کی کوئی اُمید نہیں‘ ان پر اعتبار کرنے سے بڑی حماقت نہیں ہوگی۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے دوست چاہتے ہیں خطے میں امن ہو جس سے انہیں بھی فائدہ ہوگا اور اس کے لیے وہ بہت جلد مداخلت کریں گے، افغان طالبان تنہا رہ جائیں گے جس کا نتیجہ ان کی تباہی کی صورت میں ہوگا، دہشت گردی کی فیکٹری ختم ہوگی تو حلال روزی کمانے کے مواقع پیدا ہوں گے، طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہے، ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا اور ان پر اعتماد کرنا بے سود ہے، اس سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ ان پر اعتبار کیا جائے ۔خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ہماری فورسز انتہائی ڈسلپن ہیں، طالبان کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں، ہمیں طالبان سے اچھائی کی امید نہیں، دنیا کے کس مذہب و معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی سرزمین پر رہے ہوں اور وہاں خونریزی کریں، آگ لگائیں، طالبان کون سی شریعت کو ماننے والے ہیں؟ یہ کس شریعت کی بات کرتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں خطے میں امن ہو، خطے میں امن ہوگا تو سب ہی اس کے بینیفشری ہوں گے۔ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے، نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح فیصلہ نہ کرے، طالبان حکومت کب تک عبوری رہے گی، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی عائد کی جائے کیوں کہ دہشتگردی کے بہت سے واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں، ہم ریاست ہیں، ریاست کے طورہی ردعمل دیتے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پر حملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں کیوں کہ خون اور کاروبار ایک ساتھ نہیں چل سکتے، ہم حق پر ہیں اور حق غالب آئے گا۔سینئر صحافیوں کو میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہیں، ہماری نظر میں طالبان میں کوئی تفریق نہیں، ریاست میں گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی گنجائش نہیں، بیرون ملک سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ریاست کیخلاف بیانیہ بنا رہے ہیں، گڈ اور بیڈ طالبان بیانیے کا حصہ ہیں، پاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا کیوں کہ پاکستان کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا، پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے، افغان رجیم دہشت گردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے، دہشت گردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔