اے آر وائی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حبا علی خان نے کہا کہ لڑکیوں کو اکثر یہ کہہ کر روکا جاتا ہے کہ اُن پر شک نہیں، بلکہ زمانہ خراب ہے۔ یہ ایک کہانی کی طرح سنایا جاتا ہے اور لڑکیاں مان بھی لیتی ہیں کہ بات صحیح ہے، مگر اس کا حل کوئی نہیں بتاتا۔
انہوں نے کہا کہ میں شوبز انڈسٹری میں کام کرتی ہوں، گاڑی چلاتی ہوں اور اپنی پسند کے کپڑے پہنتی ہوں، لیکن بہت سی آزادی آج بھی میرے پاس نہیں جو بھائی کو 12 سال کی عمر سے میسر ہے۔ اگر میں کہہ دوں کہ میرا کوئی دوست بات کر رہا تھا، تو خاندان والے فوراً پلٹ کر کہتے ہیں کہ "کہہ رہا تھا؟” گویا لڑکا دوست ہو ہی نہیں سکتا۔
حبا علی خان نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ لڑکے بہت برے ہیں اور لڑکیوں کو دوست نہیں سمجھتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کو دیکھ کر زیادہ پریشان عورتیں ہی ہوتی ہیں اور وہ اپنا غصہ مردوں پر نکالتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی کئی معاملات میں خواتین کو کپڑوں اور سفر کی آزادی حاصل نہیں۔
سورس اردو پوائنٹ






























