صنعا (31 اگست 2025) – یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے وزیراعظم احمد غالب ناصر الرہوی شہید ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق یہ حملہ 28 اگست کو صنعا کے جنوبی علاقے الحدیدہ میں کیا گیا، جو حوثیوں کا ایک اہم عسکری و انتظامی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ حوثی گروپ کے مطابق احمد الرہوی اپنی ٹیم کے ساتھ ایک ورکشاپ میں موجود تھے جب اسرائیلی طیاروں نے حملہ کیا۔
تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں وزیراعظم کے علاوہ کئی وزراء اور اعلیٰ فوجی افسران بھی شہید ہوئے۔ ابتدائی اطلاعات میں پانچ سے زائد اہم عہدیداروں کی شہادت کی اطلاع ملی ہے، تاہم حتمی تعداد تاحال واضح نہیں۔ حملے میں عام شہری بھی متاثر ہوئے، جسے حوثیوں نے "امن کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔
حوثیوں نے کہا کہ یہ کارروائی ان کے حوصلے پست نہیں کرے گی بلکہ وہ اپنی عسکری طاقت کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ اسرائیلی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ اگرچہ اسرائیلی حکومت نے باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن ذرائع کے مطابق یہ ایک خفیہ آپریشن تھا جسے "حوثی قیادت پر کامیاب حملہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
احمد غالب ناصر الرہوی کا پس منظر
احمد الرہوی 2023 میں حوثیوں کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے وزیراعظم بنے۔ وہ انصار اللہ کے قریبی اتحادی اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے نمایاں رہنما سمجھے جاتے تھے۔ یمنی عوام اور حوثیوں کے درمیان انہیں "مجاہد” کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی پالیسیوں نے یمن کی فوجی اور معاشی سمت کے تعین میں کلیدی کردار ادا کیا۔




























