امتحانی نظام میں بدعنوانی نوجوانوں کی مایوسی بڑھا رہی ہے، حکمت اللہ خان

0
107
pakalerts.pk
pakalerts.pk

جمعیت طلبہ اسلام بلوچستان کے نومنتخب صوبائی صدر حکمت اللہ خان کاکڑ اور جنرل سیکرٹری سرفراز احمد خان لانگو نے صوبے میں میٹرک کے ضمنی امتحانات میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور رشوت ستانی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام میں جاری بدعنوانی نوجوانوں میں پہلے سے موجود بے چینی اور مایوسی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

ممتحن رشوت اور ہراسانی میں ملوث

ان کا کہنا تھا کہ مستند ذرائع سے شکایات ملی ہیں کہ امتحانی مراکز، خصوصاً سریاب مل امتحانی سینٹر میں بعض ممتحن طلبہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ رشوت وصول کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔

میرٹ کے بجائے سفارش اور پیسے کو ترجیح

صوبائی قیادت نے کہا کہ بااثر اور ’’فکسیشن‘‘ والے طلبہ کو خصوصی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ محنتی طلبہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس عمل نے نہ صرف تعلیمی معیار کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ نوجوانوں میں احساسِ محرومی بھی بڑھ رہا ہے۔

حکومت سے شفافیت کا مطالبہ

حکمت اللہ خان اور سرفراز لانگو نے مطالبہ کیا کہ امتحانات میں صرف پیشہ ور اور مخلص عملہ تعینات کیا جائے جو نوجوانوں کو ملک کا مستقبل سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ انصاف کرے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ بلوچستان بورڈ میں ماضی میں بھی کرپشن اور امتحانی مراکز کی خرید و فروخت کے واقعات سامنے آئے تھے، لیکن میڈیا میں مختصر شور کے بعد یہ معاملات دب گئے۔ اب دوبارہ انہی شکایات کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بدعنوانی ایک منظم نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

طلبہ کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں

جمعیت طلبہ اسلام بلوچستان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے اور تعلیمی نظام کو شفاف بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو ایک محفوظ اور بہتر مستقبل مل سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ برادری کے مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔