اسلام آباد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی سے معاشی پالیسی میں تبدیلی نہیں آنی چاہیئے، آج اگر ادارے مل کر کام کررہے ہیں تو کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہورہا ، موجودہ حکومت دہشتگردی کا خاتمہ کرکے دکھائے گی۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں معاشی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہئے، ملک میں سیاسی تبدیلی سے معاشی پالیسی میں تبدیلی نہیں آنی چاہیئے۔
ہم ابھی تک اپنا وہ مقام حاصل نہیں کرسکتے جو کرنا چاہیئے تھا۔ 2013 میں کہا جارہا تھا کہ کچھ مہینے میں پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا، 2017 میں ڈرامہ رچایا گیا جس سے معیشت کو نقصان پہنچا۔ موجودہ حکومت دہشتگردی کا خاتمہ کرکے دکھائے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک چائے کے کپ کیلئے کابل گئے اور طالبا ن کیلئے دروازے کھولے گئے اس کا جواب کون دے گا؟آج اگر ادارے مل کر کام کررہے ہیں تو کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہورہا ۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ شرح 9فیصد پر آنی چاہیئے۔ 2سال پہلے کہا جارہا تھا کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہے۔ دوسری جانب مرکزی رہنماء پی ٹی آئی ملک عامر ڈوگرنے کہا کہ عمران خان قوم کا عظیم لیڈر ہے ،پی ٹی آئی کیلئے ان کی رہائی سب سے بڑھ کر ہے،عمران خان کی اجازت ہوگی تو ضرور مذاکرات ہونے چاہئیں۔انہوں نے آج جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج قیام پاکستان کے 78ویں سال حالات وہی ہیں، قائداعظم کے تین فرمودات ہیں کہ جمہوریت کا مطلب ووٹ دینا نہیں بلکہ عوام کی رائے احترام اور ان کے حقوق کی حفاظت ہے،پاکستان کے ہر شہری کو آزادی اور مساوی مواقع حاصل ہونے چاہئیں، جمہوریت میں سب کو قانون کے برابر ہونا چاہیئے۔
کسی کو طاقت یا دولت کے سبب دوسروں پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔ آج جب انصاف کو دبایا جاتاہے اور طاقت کو قانون بنایا جاتا ہے ، تو پھر جنگل کی ریاست اور جنگل کا قانون بن جاتا ہے۔ ملک وقوم کی خدمت کرنے والوں کو دہشتگردی کے مقدمات میں دہشتگرد بنا کر سزا دی گئی ہے۔
سورس اردو پوائنٹ




























