گوادر کے قریب کھلے سمندر میں ماہی گیروں کی کشتی الٹنے سے افسوسناک حادثے میں 5 ماہی گیر ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جب کہ ایک ماہی گیر خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔
کشتی کراچی سے روانہ ہوئی تھی اور گہرے پانیوں میں جا کر الٹ گئی۔ حادثے کے بعد ایک ماہی گیر کو زندہ ریسکیو کر لیا گیا۔ لاشیں تلاش کرنے کا عمل جاری رہا اور چار لاشیں کھلے سمندر سے نکال لی گئیں۔
جاں بحق ماہی گیروں کی تفصیلات
ماہی گیر کراچی کے علاقوں ابراہیم حیدری، علی اکبر شاہ گوٹھ اور مچھر کالونی سے تعلق رکھتے تھے۔
ہلاک افراد میں باپ بیٹا بھی شامل تھے؛ باپ ایوب کی لاش نکال لی گئی ہے جبکہ بیٹا ذیشان تاحال لاپتہ ہے۔
ایوب کی نماز جنازہ اتوار کو ادا کی گئی، تدفین مقامی قبرستان میں کی گئی۔
دو میتیں ایدھی سردخانے سہراب گوٹھ کراچی منتقل کی گئیں، جہاں سے انہیں مچھر کالونی لے جایا جائے گا، دو دیگر میتیں ابراہیم حیدری پہنچا دی گئی ہیں۔
پاکستان فشر فوک فورم کا مؤقف:
میڈیا کوآرڈینیٹر کمال شاہ کے مطابق کشتی میں کل 6 ماہی گیر سوار تھے جن میں سے 5 جاں بحق ہو گئے۔
فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ نے کہا:
"ماہی گیر وہ طبقہ ہے جو سمندر جا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، مگر جب وہ سمندر نہ جا سکیں تو بھوک، غربت اور محرومی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔”
پس منظر
اس سے قبل کیٹی بندر میں بھی کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آ چکا ہے جس میں ایک ماہی گیر جاں بحق اور ایک کو بے ہوشی کی حالت میں بچا لیا گیا تھا۔
مزید کارروائی
ریسکیو ادارے باقی لاپتہ ماہی گیر کی تلاش میں مصروف ہیں اور ماہی گیر برادری نے حکومتی اداروں سے حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سورس اردو پوائنٹ




























