حملے سے پہلے سہولت کار اور بمبار نے کئی بار جوڈیشل کمپلیکس کی ریکی کی تھی؛ سکیورٹی ذرائع
اسلام آباد کچہری خودکش حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو گرفتار کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے سہولت کار کو راولپنڈی سے اور ہینڈلر کو خیبرپختونخواہ سے گرفتار کیا گیا ہے، اس حوالے سے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے سے پہلے سہولت کار اور خودکش بمبار دونوں نے کئی بار جوڈیشل کمپلیکس کی ریکی کی تھی۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں خود کش حملہ کرنے والا دہشتگرد پاکستانی نہیں تھا، وانا اور اسلام آباد کے حملوں میں شواہد دیکھ کر ہم نے بھارت اور افغانستان کا نام لیا کیوں کہ وانا اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملوں کی تحقیقات میں بھارت اور افغانستان کے ممکنہ کردار کے شواہد سامنے آئے ہیں، حکومت ان شواہد کو متعلقہ ثالث ممالک کے ساتھ شیئر کرے گی تاکہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے، الزامات لگانے کے بجائے ہم حقائق کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے اور اس معاملے پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خود کش دھماکے کا مقدمہ تھانہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں درج کرلیا گیا، مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نمبر 10/25 کے تحت انسداد دہشتگردی ایکٹ کے مختلف سیکشنز میں درج کیا گیا ، مقدمے میں قتل، اقدامِ قتل و دیگر سنگین نوعیت کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر کے متن میں شہداء اور زخمیوں کی تفصیلات بھی درج ہیں، مقدمے میں دھماکے کے باعث پیدا ہونے والے خوف و ہراس اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کو فرانزک ٹیموں کے حوالے کر دیا گیا ہے، حکومت نے اسلام آباد اور وانا واقعے کے ٹھوس شواہد بین الاقوامی فورمز پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں بھارت اور افغانستان سے جنگیں جیتی ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور افغانستان سے دہشت گردوں کی سہولت کاری بند ہو، اسلام آباد اور وانا واقعے کی تحقیقات ہوں گی، اس کے ٹھوس شواہد دوست ممالک اوربین الاقوامی فورمز کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔




























