ہلچل کا ذکر تین سے چار دن سے کررہا تھا وہ چائے کی پیالی میں طوفان کی کوشش ناکام ہوگئی: سینئر سیاستدان کا بیان
سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ جن ججز کے استتعفے آتے رہیں گے وہ فوری منظور بھی کرلیے جائیں گے۔ فیصل واوڈا کا اپنے میں مزید کہنا تھا کہ ابھی تو شروعات ہے مزید استعفے بھی آئیں گے انہیں بھی فوری منظور کیا جائے گا، کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا ویسے بھی سروس میں وقت کم ہی بچا تھا۔ ہلچل کا ذکر تین سے چار دن سے کررہا تھا وہ چائے کی پیالی میں طوفان کی کوشش ناکام ہوگئی۔فیصل واوڈا نے کہا کہ یاد رکھیں یہ لفظ اب پراکسیز کا حساب ہوگا، قوم کو اب سمجھ آگئی ہوگی کہ کون کس کس مخصوص پارٹی کا سہولت کار تھا۔ واضح رہے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفٰی دے دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کے باوجود 26 ویں ترمیم کے ذریعے جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے سے محروم کر دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔




























