پشاور (یکم ستمبر 2025ء) – وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کالا باغ ڈیم کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ صوبائیت کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی جا سکتی، پاکستان کے مستقبل کے لیے سب کو مطمئن کرکے کالا باغ ڈیم ضرور تعمیر کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے صوبے میں آبی گزرگاہوں اور نالوں کے اطراف تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت دی۔ ان کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا گیا، جس میں وزراء، چیف سیکرٹری، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز شریک ہوئے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ سیلابوں میں 411 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 352 متاثرہ خاندانوں کو 704 ملین روپے معاوضہ ادا کیا جاچکا ہے، جب کہ 132 زخمیوں میں سے 60 کو معاوضے کی مد میں 30 ملین روپے دیے گئے ہیں۔ اسی طرح تباہ شدہ گھروں کے معاوضوں کی ادائیگی بھی جاری ہے، اب تک 367 مکمل تباہ شدہ اور 1094 جزوی متاثرہ گھروں کے مالکان کو 595 ملین روپے دیے جا چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ معاوضوں کی ادائیگی کا عمل تیز کیا جائے اور فوری بعد بحالی کا عمل شروع کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ڈپٹی کمشنرز براہ راست نگرانی کریں، آبی گزرگاہوں کی ڈی سلٹنگ اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں نقصانات سے بچا جا سکے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ تجاوزات ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ اسکولوں اور صحت مراکز کی بحالی کے لیے پری فیب اسٹرکچرز لگائے جائیں۔ ساتھ ہی سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران جس طرح ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کیے گئے وہ صوبے میں اچھی گورننس کا ثبوت ہیں اور بحالی کے عمل میں بھی اسی کارکردگی کو برقرار رکھا جائے گا۔




























