ایک اور بارش کا سامنا تھا

0
55
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

کراچی، جو کبھی ترقی اور امن کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج تنہائی اور بدانتظامی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ 1952ء میں تیار کیا جانے والا کراچی ماسٹر پلان ملک کے دارالحکومت کی تبدیلی کے بعد فائلوں میں بند کر دیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ شہر منصوبہ بندی کے بجائے مافیا اور سیاسی مفادات کے حوالے کر دیا گیا۔

پرانی فائلوں پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ برطانوی دور میں کراچی میں صاف پانی، وسیع سیوریج نالے، ٹرام، بسیں اور سرکلر ریلوے کا مربوط نظام موجود تھا۔ ناظم آباد اور مزارِ قائد کے اردگرد کے علاقے منظم انداز میں بسائے گئے تھے۔ کلفٹن اور بوٹ بیسن اصل میں سمندر اور کشتیوں کے لیے تھے مگر آج سمندر پیچھے ہٹ گیا ہے اور شہر پھیلاؤ کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔

وقت کے ساتھ کراچی ماسٹر پلان کو بار بار تبدیل کیا گیا اور اس کی جگہ ’’کراچی تباہی پلان‘‘ پر عمل ہوتا رہا۔ لیاری ایکسپریس وے، کے-فور منصوبہ، ماس ٹرانزٹ یا سیف سٹی پروجیکٹ—کسی منصوبے کو وقت پر مکمل نہیں کیا گیا۔ تاخیر کے باوجود تختیاں لگا کر کریڈٹ ضرور لیا گیا۔

کراچی میں سیاست اور جرم کا ایسا امتزاج بنا کہ یہ شہر دہشت گردوں، ڈرگ مافیا، انڈرورلڈ اور کرپٹ اداروں کا مسکن بن گیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے لے کر واٹر بورڈ تک ہر ادارے میں کرپشن اور نااہلی نے شہر کا حال بدحال کر دیا۔

کراچی لاوارث نہیں بلکہ ’’زیادہ وارثوں‘‘ کے جھگڑوں کا شکار ہے۔ اصل مسئلہ نئے صوبے بنانے کا نہیں بلکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا ہے۔ اگر 18ویں ترمیم کی اصل روح پر عمل ہوتا تو آج بڑے سیاستدان بھی میئر یا ٹاؤن ناظم بن کر شہر کی خدمت کرتے۔

ایم کیو ایم سمیت کئی جماعتوں کے پاس شہر کو میگا سٹی بنانے کا موقع تھا، مگر سیاست کی بنیاد کال پر شہر بند کرنے تک محدود رہی۔ نتیجہ یہ کہ کراچی کے اصل وارث یا تو ملک سے باہر ہیں یا دہری شہریت رکھتے ہیں۔

یہ شہر جناح سے لے کر جی ایم سید تک سب کا تھا، مگر وراثت کی جنگ میں تباہ ہو گیا۔ حل صرف مضبوط بلدیاتی نظام، صوبائی حکومتوں کی عدم مداخلت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ہے۔

اب کراچی بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کے بحران اور بارش کے خوف کے ساتھ جی رہا ہے—جہاں بارش دریا بن جاتی ہے اور شہریوں کی زندگی ایک انجانے خوف میں گھری رہتی ہے۔ یہی ہے آج کے کراچی کی ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘۔