سیالکوٹ (31 اگست 2025) وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں میں ایک کمرہ ایک کروڑ روپے سے زائد لاگت میں تعمیر کر رہی ہے۔
ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"ہمارے علاقے میں جناح اسلامیہ کالج کے کمرے 70 سے 80 لاکھ اور ایک ایک کروڑ روپے میں بنائے جا رہے ہیں، جب کہ پرائیویٹ سیکٹر یہی کمرہ 20 لاکھ میں تیار کر دیتا ہے، اور معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔”
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ اصل لوٹ مار بیوروکریسی کر رہی ہے:
"سیاستدان تو آنے جانے والے ہیں، لیکن یہ لوگ دہائیوں سے بیٹھے ہوئے ہیں، ان کا میٹر کبھی بند نہیں ہوا۔ سیاستدانوں کا میٹر تو 4 سال بعد بند ہو جاتا ہے، لیکن یہ مستقل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔”
علاوہ ازیں وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور لکھا کہ:
"یہ منصوبہ PICIIP ہے جو ورلڈ بینک کے قرضے پر سیالکوٹ اور ساہیوال میں چل رہا ہے۔ سیالکوٹ میں خادم علی روڈ پر پائپ ڈالنے کے کام کی کوالٹی آپ ویڈیو سے دیکھ سکتے ہیں۔ شہر کے باہر ڈسپوزل بنا دیا گیا لیکن سسٹم ابھی تک فعال نہیں۔ ٹھیکدار طاقتور ہے، وہ ہماری پارلیمنٹ کا رکن بھی ہے۔ دولت کی کوئی انتہا نہیں، شاید ہی کسی کا احتساب ہو سکے۔”
ان کے اس بیان پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
"اگر وزیر دفاع ہی اتنے بے بس ہیں تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ غریب لوگ لاکھوں ووٹ دیتے ہیں لیکن بدلے میں صرف آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ کیا فارم 45 والا کوئی رکن اسمبلی اتنا کمزور ہو سکتا ہے؟”




























