لاہور (16 ستمبر 2025): لاہور ہائیکورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے رانا سکندر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ بچے سوشل میڈیا پر نامناسب اور غیر اخلاقی مواد دیکھتے ہیں جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، 16 سال سے کم عمر بچے ان پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر اخلاقی عادات اپنا رہے ہیں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بچوں کے تحفظ کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اور فرانس کی پارلیمان نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی اس حوالے سے قانون سازی کی جائے تاکہ بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ 11 ستمبر 2025 کو فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی سفارش کی گئی تھی۔ فرانسیسی حکومت نے اس مقصد کے لیے مارچ میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی تھی جس نے سفارش کی کہ 15 سال سے کم عمر افراد کو سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے، جبکہ 15 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک سوشل میڈیا تک رسائی بند کی جائے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے کہا تھا کہ یہ اقدام ایک واضح پیغام دے گا کہ سوشل میڈیا 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے محفوظ نہیں۔ کمیٹی نے عوامی آگاہی مہم چلانے اور ڈیجیٹل غفلت کو جرم قرار دینے کی بھی سفارش کی تھی۔ فرانسیسی حکومت ان سفارشات پر غور کر رہی ہے اور جلد حتمی فیصلہ متوقع ہے۔




























