پاکستان کے پاس اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹنے کی صلاحیت ہے، جس طرح بھارت کو لپیٹا تھا، مولانا فضل الرحمٰن

0
103
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹ سکتا ہے، جیسا کہ اُن کے بقول پاکستان نے ماضی میں بھارت کے خلاف بھی فوری کارروائی کی صلاحیت دکھائی تھی۔ یہ بات انہوں نے راولپنڈی میں منعقدہ تحفظ ختمِ نبوت اور دفاعِ پاکستان کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔

قائدِ اعظم اور فلسطین

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب إسرائيل وجود میں آیا تو قراردادِ پاکستان میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ فلسطینی بستیوں پر یہودی آبادکاری ناقابلِ قبول ہے اور یہ اصول قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات سے ملتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان اور امت مسلمہ کو فلسطینی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔

اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تنقید

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیوں میں بوڑھے، بچے، خواتین اور غیر مسلح افراد بھی نشانہ بن رہے ہیں اور ان کے بقول اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے مختلف ممالک—جیسے لبنان، شام اور یمن—پر حملوں اور دوحہ میں حماس قیادت پر فضائی حملے کی بھی مذمت کی اور قطر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعادہ کیا۔

امتِ مسلمہ کے لیے اپیل

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا مقصد امتِ مسلمہ کو ختم کرنا ہے، اس لیے انہیں امید ہے کہ دوحہ میں بلا رہے اجلاس سے اسلامی دنیا کے حکمرانوں کا ضمیر جاگے گا اور متحدہ اقدام اٹھائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کی خواہش ہے کہ اسلامی دنیا ایک بلاک بنے اور ضروری صورت میں مشترکہ دفاعی قوت بھی استعمال کی جائے تاکہ بیت المقدس آزاد ہو سکے۔

داخلی امور اور سیلاب متاثرین

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے انتخابات میں شفافیت کی حمایت کرتے ہوئے دھاندلی کے خلاف الفاظ ادا کیے اور سیلاب زدگان کی مدد کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود غم و مصیبت زدہ عوام، بے گھر اور شہید افراد کے بارے میں توجہ دی جانی چاہیے اور جو لوگ اس وقت امداد کر رہے ہیں، اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔

اندرونی سیاست پر اشارے

مولانا فضل الرحمن نے داخلی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مشکوک عناصر معاشرے میں اضطراب پھیلارہے تھے مگر سپریم کورٹ نے ان عناصر کو شکست دی، جس سے اُن کی سیاسی حیثیت کمزور ہو گئی ہے۔