مریخ پر زندگی کے امکانات مزید مضبوط ہو گئے

0
128
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

واشنگٹن (12 ستمبر 2025): ناسا کے روور پرسویرینس (Perseverance) نے مریخ کے جییزرو کریٹر میں ایک ایسی دریافت کی ہے جسے ماہرین اب تک کی مریخ پر زندگی کے حوالے سے سب سے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

حیرت انگیز دریافت

2021 میں مریخ پر اترنے والا پرسویرینس، جولائی 2024 میں ایک چھوٹے دریا کی وادی میں پہنچا جہاں ایک 3.2 فٹ لمبی چٹان، جسے سائنس دانوں نے "چیایاوا فالز” کا نام دیا ہے، سے نمونہ لیا گیا۔

یہ چٹان مختلف رنگوں—سرخ، سبز، جامنی اور نیلا—سے مزین ہے اور اس پر پاپی سیڈ نما نقطے اور زرد دھبے موجود ہیں جو زمین پر مائیکروبس کے نشانات سے مشابہت رکھتے ہیں۔

سائنسی تجزیہ

سرخ رنگ لوہے سے بھرپور مٹی ہے،
جامنی میں لوہا اور فاسفورس،
سبز و زرد میں لوہا اور سلفر شامل ہیں—یہ تمام وہ عناصر ہیں جنہیں خردبینی جاندار اپنی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

روور کے آلات نے ویویانائٹ (vivianite) اور گریگائٹ (greigite) نامی معدنیات کی موجودگی کی تصدیق کی، جو زمین پر عموماً سڑنے والے نامیاتی مادے کے قریب یا مائیکروبی عمل کے نتیجے میں بنتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

ناساکے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر شان ڈفی نے کہا:

"یہ مریخ پر زندگی کی دریافت کے سب سے قریب ترین شواہد ہیں۔”

سائنسدان جوئیل ہیورووٹز نے وضاحت کی کہ یہ معدنی امتزاج زمین پر نامیاتی مادے کو کھانے والے مائیکروبس کے ثبوت سے مشابہ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان نشانات کی غیر حیاتیاتی وضاحت بھی ممکن ہے، اس لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

"ممکنہ حیاتیاتی نشان” کی وضاحت

ناسا نے واضح کیا ہے کہ یہ دریافت صرف ایک "ممکنہ بایو سگنیچر” ہے، یعنی ایسا نشان جو زندگی سے جڑا ہو سکتا ہے لیکن حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید ڈیٹا درکار ہے۔

اگلا مرحلہ: مریخی نمونے زمین پر لانا

پرسویرینس اب تک 43 ٹائٹینیم ٹیوبز میں مریخی مٹی اور چٹان کے نمونے محفوظ کر کے سطح پر چھوڑ چکا ہے۔ مستقبل میں ان نمونوں کو زمین پر لانے کے لیے ایک مارس سیمپل ریٹرن (MSR) مشن تجویز کیا گیا تھا، جس میں یورپی خلائی ایجنسی بھی شریک ہے۔

تاہم، ابھی تک اس مشن کے لیے کوئی عملی ہارڈویئر تیار نہیں ہوا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ناسا کے بجٹ میں 24 فیصد کٹوتی کی تجویز سے یہ منصوبہ مزید خطرے میں پڑ گیا ہے۔